امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد 100 فیصد فتح حاصل کر لی، ایران کے یورینیم کامعاملہ بہترین طریقے سے سنبھال لیا جائے گا، ایران کو مذاکرات کی میز پر چین لایا ہے،امریکا آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی بحالی میں مدد کرے گا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی خبر رساںادارے سے ٹیلیفونک گفتگو اور اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کے بعد امریکا نے 100 فیصد فتح حاصل کر لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل المدتی امن معاہدے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک پہلے ہی موجود ہے اور پیشرفت مثبت سمت میں جاری ہے، 15 نکاتی منصوبے میں سے بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ باقی معاملات پر بھی جلد پیش رفت متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری مواد کسی بھی حتمی امن معاہدے کا لازمی حصہ ہوگا، آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی اور دیکھا جائے گا کہ مذاکرات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی تعمیر میں مدد کرے گا، بہت ساری مثبت کارروائیاں ہوں گی، بڑی رقم کمائی جائے گی، ایران تعمیر نو کا عمل شروع کر سکتا ہے، ہم آبنائے ہرمز میں ہر قسم کی سپلائیز تیار کر رہے ہیں اور حالات پر نظر رکھیں گے تاکہ سب کچھ بخوبی اور بغیر کسی رکاوٹ کے چل سکے۔
دریں اثنا سوشل میڈیاپر اپنے ایک پیغا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے یورینیم کامعاملہ بہترین طریقے سے سنبھال لیا جائے گا۔ ایران کو مذاکرات کی میز پر چین لایا ہے۔ آج عالمی امن کیلئے ایک بڑا دن ہے، ایران سمیت ہر کوئی چاہتا تھا جنگ بندی ہو، امریکا آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی بحالی میں مدد کرے گا، لاتعداد مثبت اقدامات ہوں گے، بہت پیسہ بنے گا۔ امریکا کی طرح مشرق وسطی کا بھی سنہرا دور آئے گا ا ور اس معاہدے کے نتیجے میں بڑے معاشی مواقع پیدا ہوں گے۔دوسری جانب ترجمان وائٹ ہائو س کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی امریکا کی فتح ہے، یہ کامیابی امریکی صدر اور فوج کی کوششوں کا نتیجہ ہے، امریکا نے موثر حکمت عملی کے ذریعے جنگ بندی ممکن بنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت خطے میں استحکام کیلئے اہم سنگ میل ہے، امریکی فوج کی کارکردگی قابل ستائش اور غیر معمولی ہے، امریکا خطے میں استحکام کیلئے اپنا کردار جاری رکھے گا۔کیرولین لیوٹ نے کہا کہ فوجی کامیابی نے زیادہ سے زیادہ دبا پیدا کیا، جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو سخت مذاکرات کرنے کا موقع ملا اور اب ایک سفارتی حل اور طویل مدتی امن کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ترجمان وائٹ ہاس کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی امریکا کے مفادات کو آگے بڑھانے اور امن قائم کرنے کی صلاحیت کو کبھی کم نہ سمجھیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی