i بین اقوامی

کویت میں فوجیوں کی ہلاکت، امریکی کانگریس کا وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے مستعفی ہونے کا مطالبہتازترین

April 30, 2026

امریکی کانگریس کے رکن نے فوجیوں کی ہلاکت پر وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹک رکن کانگریس پیٹ ریان نے کویت میں تعینات چھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر پینٹاگون کے سربراہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، یہ فوجی ایک ایرانی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔پیٹ ریان نے سماعت کے دوران ہیگستھ سے سوال کیا کہ کیا انٹیلی جنس معلومات میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ مذکورہ مقام ایران کے ممکنہ اہداف میں شامل ہے اور فضائی حملے کے خلاف اس کا دفاع ممکن نہیں تھا، انہوں نے پوچھا اس کے باوجود آپ نے 103 ویں سسٹینمنٹ کمانڈ کے اہلکاروں کو وہاں تعینات کیا، کیا یہ درست ہے یا غلط؟پیٹ ہیگستھ نے جواب میں کہا کہ امریکی فوج نے اپنے اہلکاروں کے تحفظ کے لئے پیشگی اقدامات کئے تھے اور ہلاک ہونے والے فوجیوں کو روزانہ یاد رکھا جاتا ہے۔پیٹ ریان نے میڈیا سے گفتگو میں بچ جانے والے اہلکاروں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ڈرون حملے سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں تھے۔

انہوں نے وزیرِ دفاع پر الزام عائد کیا کہ وہ واقعے کی سنگینی کو کم کر کے پیش کر رہے ہیں اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عہدے سے استعفی دیں۔دریں اثنا واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کا اجلاس اس وقت ہنگامہ خیز صورتحال اختیار کر گیا جب امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور جنرل ڈین کین کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ اس موقع پر اراکینِ کمیٹی نے دونوں اعلی حکام پر سخت سوالات کی بوچھاڑ کر دی اور ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے مقاصد پر وضاحت طلب کی۔کمیٹی کے اراکین نے وزیر جنگ کو یاد دلایا کہ ان کے اپنے دعوں کے مطابق ایران کا سب سے بڑا خطرہ اس کا جوہری پروگرام تھا اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آپریشن مڈ نائٹ ہیمر مکمل طور پر کامیاب رہا ہے ۔اراکین نے سوال اٹھایا کہ جب سب سے بڑا خطرہ ختم ہو چکا ہے تو پھر اب اس جنگ کو جاری رکھنے کا کیا جواز باقی رہ گیا ہے؟اس کے جواب میں پیٹ ہیگستھ نے کوئی ٹھوس منطق پیش کرنے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ ایران اپنے ارادوں سے باز نہیں آیا ہے. جب کمیٹی نے ان سے جنگی حکمت عملی یا اسٹریٹجی کے بارے میں پوچھا تو وہ واضح جواب دینے کے بجائے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔

اجلاس کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب کانگریس مین سیتھ مولٹن نے پیٹ ہیگستھ کو کڑے امتحان میں ڈال دیا.۔یتھ مولٹن نے پوچھا کہ مسٹر ہیگستھ کیا آپ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کو اپنی فتح سمجھتے ہیں؟۔پیٹ ہیگستھ نے جواب دیا کہ ہمارا محاصرہ ایرانی بندرگاہوں سے کسی کو آنے یا جانے نہیں دے رہا ہے۔اس پر مولٹن نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اچھا تو ہم نے ان کے محاصرے کا محاصرہ کر لیا ہے، یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے صدر میڈیسن نے کہا تھا کہ برطانویوں نے واشنگٹن جلا دیا ہے لیکن پریشان نہ ہوں ہم بھی اسے جلا دیں گے۔ڈیموکریٹک رکن سارہ جیکب نے بھی وزیر جنگ پر شدید تنقید کی اور جنگ کے نقصانات کے اعداد و شمار سامنے رکھ دئیے۔انہوں نے بتایا کہ اس جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور 380 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔سارہ جیکب کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز جو پہلے کھلا تھا اب بند ہو چکا ہے، ایرانی حکومت اب بھی اقتدار میں ہے اور ان کے پاس اب بھی ایٹمی مواد موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ پر امریکا کے اربوں ڈالرز خرچ ہو چکے ہیں اور اگر ان تمام نقصانات کے باوجود آپ سمجھتے ہیں کہ آپ یہ جنگ جیت رہے ہیں تو پھر ہمیں آپ کی دماغی حالت پر سوال اٹھانا چاہیے، شاید آپ ہی اس تمام ناکامی کے اصل ذمہ دار ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی