امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کانگریس کے ارکان کو آگاہ کیا ہے کہ اسے ایران جنگ کے اخراجات اور دیگر متعلقہ مالی ضروریات پوری کرنے کے لئے تقریبا 80 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز درکار ہیں۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق نائب وزیر دفاع اسٹیفن فینبرگ نے حالیہ دنوں میں قانون سازوں سے رابطہ کرکے بتایا کہ جنگی کارروائیوں، فوجی تعیناتیوں، اسلحہ و گولہ بارود کی دوبارہ خریداری اور دیگر اخراجات کے باعث اضافی مالی وسائل کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے زیرِ استعمال کئی جدید ہتھیاروں اور میزائل نظاموں کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے جنہیں دوبارہ بھرنے کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈز درکار ہوں گے۔
امریکی حکام اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ عسکری تیاری اور عالمی سطح پر دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے اسلحہ ذخائر کی فوری بحالی ضروری ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی فوجی اخراجات تیزی سے بڑھے ہیں۔ اپریل میں پینٹاگون نے جنگ کی لاگت کا ابتدائی تخمینہ تقریبا 25 ارب ڈالر بتایا تھا تاہم بعد میں مختلف ذرائع نے اس میں مزید اضافے کی نشاندہی کی۔کانگریس میں اس معاملے پر سیاسی اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بعض ارکان کا موقف ہے کہ اتنی بڑی رقم کی منظوری سے قبل جنگ کے مقاصد، حکمتِ عملی اور قانونی جواز پر مزید وضاحت درکار ہے جبکہ دیگر قانون ساز قومی سلامتی کے پیشِ نظر فوجی فنڈنگ کی حمایت کر رہے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی