امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اعلی سطحی سربراہی ملاقات کے بعد تجارتی کشیدگی میں ممکنہ کمی کی امید پر عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی واقع ہوئی، اگرچہ خلیجی خطے کے جغرافیائی خطرات بدستور برقرار رہے۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت 0.40 فیصد کمی کے بعد 105.21 ڈالر فی بیرل پر آگئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ(ڈبلیو ٹیآئی ) خام تیل 0.07 فیصد کمی کے ساتھ 100.95 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ تاجروں کے مطابق یہ معمولی کمی اس امید کا نتیجہ تھی کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان مذاکرات عالمی تجارت کو مستحکم بنانے اور فوری معاشی تناو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں نرمی نے سرمایہ کاروں کو خطرہ مول لینے پر آمادہ کیا، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور برآمدات سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں دلچسپی بڑھی۔ایس اینڈ پی 500 تقریبا 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیاجبکہ نیسڈیک کمپوزٹ میں 1 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جس کی قیادت سیمی کنڈکٹر اور مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں نے کی۔ سرمایہ کاروں نے ان اطلاعات کا خیر مقدم کیا کہ واشنگٹن، وسیع تر مذاکرات کے حصے کے طور پر، چین پر اے آئی چپس کی برآمدی پابندیوں میں نرمی کر سکتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی