i بین اقوامی

طالبان حکومت کے سلامتی سے متعلق دعوے قابلِ اعتماد نہیں ہیں، امریکی جریدہ کی رپورٹتازترین

February 03, 2026

ایک امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ افغانستان پر قابض طالبان رجیم کے امن، معیشت، حکمرانی اور انسانی حقوق سے متعلق دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور محض ایک خودساختہ بیانیہ ثابت ہو رہے ہیں۔امریکی جریدہ یوریشیا کی تازہ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس سے واضح ہوتا ہے کہ طالبان حکومت کے سلامتی سے متعلق دعوے قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے کئی دہشت گرد حملوں کے روابط براہِ راست افغان سرزمین سے جوڑے جا چکے ہیں۔جریدے کے مطابق افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں، جو طالبان کے امن و استحکام کے دعوں کی نفی کرنے کے لیے کافی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا دعوی حقائق کے برعکس ہے۔ورلڈ بینک کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کے معاشی بہتری کے دعوئوں کے باوجود افغانستان کی معیشت بنیادی طور پر بقا کی سطح پر چل رہی ہے اور عوام کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

یوریشیا کے مطابق افغانستان میں برانڈنگ اور حقیقت کے درمیان سب سے بڑا خلا حکمرانی کے شعبے میں ہے، جہاں شفافیت، قانون کی بالادستی اور عوامی نمائندگی کا فقدان ہے۔ رپورٹ میں خواتین کی تعلیم پر پابندی کو طالبان رجیم کی طویل المدتی خود تباہی کی سب سے نمایاں مثال قرار دیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حکمرانی کے نام پر درحقیقت آمریت قائم ہے اور طالبان محض دعوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے دنیا کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق زمینی حقائق یہ ہیں کہ افغانستان میں تشدد، معاشی بحران اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی