i بین اقوامی

طالبان رجیم میں افغان خواتین کی عصمت دری، نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقابتازترین

June 01, 2026

افغان طالبان رجیم کے جنسی مظالم اور انسانیت سوز مظالم دنیا کے سامنے بے نقاب ہونے لگے۔اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رہنما اور جنگجوں نے خواتین کے جنسی تشدد کا ارتکاب کیا۔افغان میڈیا افغان انٹرنیشنل کے مطابق یوناما نے سال 2025 میں 21 ایسے کیسز کو دستاویزی شکل دی جن میں 15 خواتین اور 6 لڑکیاں شامل تھیں، طالبان حکام اور جنگجوں نے افغان خواتین کو انفرادی اوراجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔یوناما رپورٹ کے مطابق طالبان حکام اپنی اعلان کردہ پابندی کے باوجود خود بھی خواتین کی جبری شادیوں میں ملوث ہیں،طالبان حکام نے احتجاجی خواتین کو حراست میں لے کر تشدد، بدسلوکی اور جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔افغانستان کی قومی سلامتی کے ادارے(NDS) کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے طالبان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ان سنگین الزامات کے بعد معاملے کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں۔ماہرین کے مطابق طالبان کا نام نہاد "اسلامی نظام" ایک ڈھونگ ہے اور یہ ٹولہ طاقت کے وحشیانہ استعمال سے اپنا اقتدار قائم رکھے ہوئے ہے، افغان طالبان کے ہاتھوں خواتین کے جنسی استحصال سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹولہ اسلام کے نام پر اپنے عوام کو دھوکہ دے رہا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی