i آئی این پی ویلتھ پی کے

ٹیلی کام سسٹم میں 9 ہزار سے زائد چوری اور بجلی بندش کے واقعات، خدمات متاثر،ویلتھ پاکستانBreaking

June 12, 2026

ملک بھر میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو گزشتہ 11 ماہ کے دوران 9 ہزار سے زائد ڈیزل اور بجلی کی چوری کے واقعات اور طویل لوڈشیڈنگ کے باعث شدید مشکلات کا سامنا رہا جس سے نیٹ ورک کی کارکردگی اور سروسز متاثر ہوئیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ واقعات ملک بھر میں ٹیلی کام نظام کے تقریبا 16 فیصد انفراسٹرکچر کو متاثر کرنے کا باعث بنے۔ سب سے زیادہ واقعات سندھ میں رپورٹ ہوئے جہاں 31 اضلاع میں 3 ہزار 938 کیسز سامنے آئے۔ پنجاب میں 38 اضلاع کے اندر 2 ہزار 827 واقعات، خیبر پختونخوا میں 25 اضلاع میں 1 ہزار 668 جبکہ بلوچستان میں 26 اضلاع کے اندر 716 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ریگولیٹری ادارے کے مطابق طویل لوڈشیڈنگ بھی نیٹ ورک کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے، جس کے باعث ٹیلی کام سائٹس پر موجود بیک اپ پاور سسٹمز جلد ختم ہو جاتے ہیں اور سروس میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے پالیسی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی درخواست پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ اہم ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جا سکے اور ترجیحی بنیادوں پر فیڈرز مختص کیے جائیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ بھی رابطے میں ہے جبکہ موبائل آپریٹرز مقامی بجلی کمپنیوں کے ساتھ مل کر مخصوص فیڈرز اور اسمارٹ ٹرانسفارمرز کے ذریعے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان چیلنجز کے باوجود ٹیلی کام شعبے میں ترقی اور جدیدیت کا عمل جاری ہے۔ دستاویز کے مطابق حالیہ اسپیکٹرم نیلامی کے بعد دستیاب اسپیکٹرم میں 480 میگا ہرٹز کا اضافہ ہوا ہے جو سابقہ دستیابی کے مقابلے میں 200 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔ اتھارٹی کے مطابق اس اضافے سے نیٹ ورک کی صلاحیت اور سروس کے معیار میں بہتری متوقع ہے۔

اوسط چوتھی نسل انٹرنیٹ کی ڈان لوڈ رفتار 4 میگا بائٹ فی سیکنڈ سے بڑھ کر تقریبا 20 میگا بائٹ فی سیکنڈ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ابتدائی پانچویں نسل کے نظام میں یہ رفتار 50 میگا بائٹ فی سیکنڈ تک ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ موبائل آپریٹرز ہر سال تقریبا ایک ہزار نئے ٹیلی کام سائٹس قائم کر رہے ہیں جن میں سے 20 فیصد نئے علاقوں میں لگائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں 12 ہزار سے زائد سائٹس نصب یا اپ گریڈ کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وائس اوور ایل ٹی ای، وائس اوور وائی فائی اور جدید مائی ایم آئی ایم او جیسی ٹیکنالوجیز بھی متعارف کرائی گئی ہیں جبکہ فائبر کنیکٹیویٹی کو 20 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد تک لے جانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے تمام موبائل کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے نظام میں نگرانی کے بہتر اقدامات کریں تاکہ ٹیلی کام ٹاورز پر ایندھن کی چوری کو روکا جا سکے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک