آئی این پی ویلتھ پی کے

ایران امریکا مفاہمت سے پاکستان کو 20 ارب ڈالر کے معاشی فوائد حاصل ہونے کا امکان،ویلتھ پاکستان

June 10, 2026

ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کی صورت میں پاکستان کو تجارت، توانائی، گوادر بندرگاہ سے وابستہ راہداری سرگرمیوں اور سعودی عرب کے دفاعی و سرمایہ کاری تعاون کے ذریعے تقریبا 20 ارب ڈالر کے معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ یہ انکشاف ایک تحقیقی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ممکنہ ثالثی کردار کے باعث پاکستان اس وقت ایک اہم جغرافیائی اور معاشی موقع پر کھڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت ہو جاتی ہے تو پاکستان کے لیے یہ علاقائی بحران تجارت، توانائی، نقل و حمل اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران۔امریکا کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت کی رکاوٹوں کے باعث پاکستانی معیشت کو 10 سے 14 ارب ڈالر تک نقصان پہنچا جو ملکی مجموعی پیداوار کے تقریبا 2 سے 3 فیصد کے برابر ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں مئی 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد تک پہنچ گئی، بیرونی کھاتوں کا توازن خسارے میں چلا گیا اور شرح سود میں بھی اضافہ کرنا پڑا۔تحقیقی ادارے کے مطابق ممکنہ امن معاہدے سے پاکستان کو قلیل مدت میں تقریبا 20 ارب ڈالر کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ان میں ایران کے ساتھ تجارت سے 2 ارب ڈالر، ایران۔پاکستان گیس منصوبے سے 2 ارب ڈالر، گوادر راہداری تجارت سے ایک ارب ڈالر اور سعودی عرب کے دفاعی و سرمایہ کاری تعاون سے 15 ارب ڈالر کے مواقع شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔

بین الاقوامی پابندیوں سے قبل دونوں ممالک کے درمیان تجارت 2008-09 میں 1.32 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، تاہم بعد ازاں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ پابندیوں میں نرمی کی صورت میں پاکستان چاول، گوشت، کاغذ، کپڑا، پھل، تل، چنے، پھلیاں اور جراحی آلات ایران برآمد کر سکتا ہے۔توانائی کے شعبے کو بھی اہم موقع قرار دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران۔پاکستان گیس منصوبہ روزانہ تقریبا 75 کروڑ مکعب فٹ قدرتی گیس فراہم کر سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس گیس کی قیمت موجودہ درآمدی مائع گیس کے مقابلے میں کافی کم ہوگی جس سے پاکستان سالانہ 1.5 سے 2 ارب ڈالر تک بچا سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق گوادر بندرگاہ بھی اس ممکنہ مفاہمت سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کے متبادل راستوں کی محدود گنجائش کے باعث گوادر کی جغرافیائی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ موجودہ تجارتی حجم برقرار رہنے کی صورت میں بندرگاہ سالانہ 5 سے 8 کروڑ ڈالر تک آمدنی حاصل کر سکتی ہے جبکہ راہداری اور دیگر خدمات سے اضافی فوائد بھی ممکن ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گوادر اور پاک چین اقتصادی راہداری کا بنیادی ڈھانچہ پاکستان کو ایران، وسطی ایشیا، روس اور یورپ کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ منصوبے کے تحت متوقع سرمایہ کاری 2015 میں 46 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2030 تک 62 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ 24.7 ارب ڈالر کے منصوبے پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعاون کو بھی اہم موقع قرار دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ مجوزہ سرمایہ کاری پیکج 10 ارب ڈالر پر مشتمل ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو 5 ارب ڈالر سے بڑھا کر 15 ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہو سکتے ہیں، تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی کم ہو سکتی ہے، خلیجی ممالک کو برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور بیرونی کھاتوں کی صورتحال بہتر بن سکتی ہے۔تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ تمام فوائد اس بات سے مشروط ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان مرحلہ وار اور پائیدار معاہدہ ہو، آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہوں، پابندیوں میں نرمی آئے، علاقائی سرمایہ کاری دوبارہ شروع ہو اور پاکستان اپنی بندرگاہی، نقل و حمل اور سکیورٹی صلاحیتوں میں مزید بہتری لائے۔رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان دیرپا مفاہمت قائم ہو جاتی ہے تو پاکستان ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم حکومت کو سفارتی مواقع کو بروقت معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ہوگا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک