آئی این پی ویلتھ پی کے

سندھ میں زیرِ کاشت رقبے میں 6 فیصد اضافہ، غیر زیرِ کاشت زمین نصف سے بھی کم رہ گئی،ویلتھ پاکستان

July 23, 2026

سندھ میں سال 2024 کے دوران زرعی زمین کے استعمال میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی جہاں زیرِ کاشت رقبہ 6 فیصد بڑھ کر 81 لاکھ 10 ہزار ایکڑ تک پہنچ گیا جبکہ غیر زیرِ کاشت زمین میں 51 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی۔سندھ کی زرعی مردم شماری 2024 کے مطابق صوبے میں زیرِ کاشت رقبہ 2010 کے 76 لاکھ 40 ہزار ایکڑ سے بڑھ کر 2024 میں 81 لاکھ 10 ہزار ایکڑ ہو گیا۔ اسی عرصے میں غیر زیرِ کاشت زمین 22 لاکھ 30 ہزار ایکڑ سے کم ہو کر صرف 10 لاکھ 80 ہزار ایکڑ رہ گئی جس سے زرعی زمین کے زیادہ مثر استعمال کی نشاندہی ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق زرعی زمین کے استعمال کی مجموعی شرح بھی بہتر ہوئی جو 2010 میں 79 فیصد تھی اور 2024 میں بڑھ کر 92.1 فیصد ہو گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دستیاب زرعی اراضی کا بڑا حصہ اب عملی کاشت کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔صوبے میں مجموعی زیرِ فصل رقبہ بھی 6 فیصد اضافے کے ساتھ ایک کروڑ 23 لاکھ 50 ہزار ایکڑ سے بڑھ کر ایک کروڑ 31 لاکھ ایکڑ تک پہنچ گیا۔ تاہم خریف کی فصلوں کا رقبہ معمولی کمی کے ساتھ 65 لاکھ 30 ہزار ایکڑ سے گھٹ کر 64 لاکھ 40 ہزار ایکڑ رہ گیا۔اس کے برعکس ربیع کی فصلوں میں نمایاں وسعت دیکھی گئی۔ ربیع کے زیرِ کاشت رقبے میں 15 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 56 لاکھ 40 ہزار ایکڑ سے بڑھ کر 65 لاکھ ایکڑ تک پہنچ گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس موسم کی کاشت نے گزشتہ برسوں میں زیادہ ترقی کی۔گندم بدستور صوبے کی نمایاں فصل رہی جس کا زیرِ کاشت رقبہ 14 فیصد اضافے کے ساتھ 46 لاکھ 90 ہزار ایکڑ سے بڑھ کر 53 لاکھ 50 ہزار ایکڑ ہو گیا۔ اسی طرح دھان کا رقبہ بھی 15 فیصد بڑھ کر 24 لاکھ 40 ہزار ایکڑ سے 28 لاکھ 20 ہزار ایکڑ تک پہنچ گیا۔

مکئی نے بڑی فصلوں میں سب سے زیادہ شرحِ نمو ریکارڈ کی۔ اس کا زیرِ کاشت رقبہ 80 فیصد اضافے کے ساتھ 43 ہزار 136 ایکڑ سے بڑھ کر 77 ہزار 475 ایکڑ ہو گیا، اگرچہ مجموعی رقبے کے لحاظ سے یہ اب بھی گندم اور دھان کے مقابلے میں کافی کم ہے۔دوسری جانب چند اہم فصلوں کے زیرِ کاشت رقبے میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ کپاس کا رقبہ 28 فیصد کم ہو کر 25 لاکھ 30 ہزار ایکڑ سے 18 لاکھ 30 ہزار ایکڑ رہ گیا، جبکہ گنے کا رقبہ 18 فیصد کمی کے بعد 6 لاکھ 29 ہزار 58 ایکڑ سے گھٹ کر 5 لاکھ 14 ہزار 396 ایکڑ تک آ گیا۔مویشیوں کے چارے کی فصلوں کا رقبہ بھی 36 فیصد کم ہو کر 5 لاکھ 53 ہزار 161 ایکڑ سے 3 لاکھ 51 ہزار 639 ایکڑ رہ گیا، جبکہ باغات کا رقبہ 13 فیصد کمی کے ساتھ ایک لاکھ 88 ہزار 321 ایکڑ سے کم ہو کر ایک لاکھ 64 ہزار 188 ایکڑ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق فصلوں کی کاشت تقریبا مستحکم رہی اور 2010 کے 162 فیصد کے مقابلے میں 2024 میں 161.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔زرعی مردم شماری کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ میں زیادہ زرعی زمین کاشت کے دائرے میں آ چکی ہے اور ربیع کی فصلوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم کپاس، گنا، چارے کی فصلوں اور باغات کے رقبے میں کمی آئندہ زرعی منصوبہ بندی، زمین کی پیداواری صلاحیت اور موسمی ترجیحات کے تعین کے لیے اہم چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک