آئی این پی ویلتھ پی کے

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ مالی سال 2029 تک ایک کھرب روپے سے تجاوز کر جائے گا،ویلتھ پاکستان

July 23, 2026

حکومت نے آئندہ تین برسوں کے دوران سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے فنڈز میں مسلسل اضافے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت مالی سال 2028-29 میں اس پروگرام کا مجموعی بجٹ ایک کھرب روپے سے بڑھ جائے گا۔درمیانی مدت کے بجٹ تخمینے کے مطابق پروگرام کے لیے مالی سال 2026-27 میں 844 ارب 57 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے جائیں گے جو مالی سال 2027-28 میں بڑھ کر 921 ارب 80 کروڑ 20 لاکھ روپے ہو جائیں گے جبکہ مالی سال 2028-29 میں یہ رقم ایک کھرب 14 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گی۔بینظیر کفالت کے تحت غیر مشروط نقد امداد کا منصوبہ بدستور سب سے بڑا حصہ حاصل کرے گا۔ اس مد میں مالی سال 2026-27 کے لیے 663 ارب روپے، 2027-28 کے لیے 729 ارب 30 کروڑ روپے اور 2028-29 کے لیے 802 ارب 23 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔بچوں کی تعلیم کے لیے بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام کے بجٹ میں بھی مسلسل اضافہ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مالی سال 2026-27 میں 90 ارب ایک کروڑ 40 لاکھ روپے، 2027-28 میں 99 ارب ایک کروڑ 60 لاکھ روپے اور 2028-29 میں 108 ارب 91 کروڑ 70 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ماں اور بچے کی غذائی ضروریات پوری کرنے والے بینظیر نشوونما پروگرام کے لیے بھی فنڈز بڑھائے جائیں گے۔ اس پروگرام کا بجٹ مالی سال 2026-27 میں 61 ارب 50 کروڑ 70 لاکھ روپے سے بڑھ کر 2027-28 میں 67 ارب 65 کروڑ 80 لاکھ روپے اور 2028-29 میں 74 ارب 42 کروڑ 30 لاکھ روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ہنگامی حالات میں ایک مرتبہ دی جانے والی نقد امداد کے لیے مالی سال 2026-27 میں 3 ارب روپے، 2027-28 میں 3 ارب 30 کروڑ روپے اور 2028-29 میں 3 ارب 63 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ہنرمندی کے فروغ کے پروگرام کے لیے آئندہ تین برسوں میں بالترتیب 50 کروڑ، 55 کروڑ اور 60 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے جائیں گے، جبکہ غربت سے پائیدار نجات کے پروگرام کے لیے بھی یہی رقوم رکھی گئی ہیں۔مشترکہ سماجی تحفظ پروگرام کے لیے مالی سال 2026-27 میں 13 کروڑ 50 لاکھ روپے، 2027-28 میں 14 کروڑ 90 لاکھ روپے اور 2028-29 میں 16 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔مستحق خاندانوں کے قومی سماجی و معاشی اندراجی منصوبے کے لیے فنڈز بھی بڑھائے جائیں گے جو مالی سال 2026-27 میں 3 ارب 22 کروڑ 50 لاکھ روپے سے بڑھ کر 2027-28 میں 3 ارب 54 کروڑ 80 لاکھ روپے اور 2028-29 میں 3 ارب 90 کروڑ 20 لاکھ روپے تک پہنچ جائیں گے، تاکہ مستحق افراد کے اعداد و شمار کو مسلسل جدید بنایا جا سکے۔دستاویز کے مطابق نقد امداد کی ترسیل اور دیگر پروگرامی اخراجات کے لیے مالی سال 2026-27 میں 7 ارب 12 کروڑ 50 لاکھ روپے، 2027-28 میں 7 ارب 83 کروڑ 80 لاکھ روپے اور 2028-29 میں 8 ارب 62 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انتظامی اور عمومی اخراجات کے لیے مالی سال 2026-27 میں 15 ارب 57 کروڑ روپے، 2027-28 میں 9 ارب 89 کروڑ 50 لاکھ روپے اور 2028-29 میں 10 ارب 88 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔درمیانی مدت کے بجٹ تخمینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت آئندہ تین برسوں کے دوران آمدنی میں معاونت، تعلیم، غذائیت، ہنگامی امداد اور غربت میں کمی کے منصوبوں پر اخراجات بڑھا کر ملک کے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک