سندھ میں بائیو سالین زراعت کے منصوبے کے تحت چار اضلاع میں نمکیات اور پانی جمع ہونے سے متاثرہ 460 ایکڑ زمین بحال کر لی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ بایو سالین ایگریکلچر ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فیز ٹو منصوبے کے مجموعی ہدف کا تقریبا 70 فیصد ہے۔اس منصوبے کا مقصد 30 جون 2026 تک مجموعی طور پر 600 ایکڑ زمین کو قابلِ کاشت بنانا ہے۔ یہ منصوبہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ایگریکلچر ریسرچ سندھ کے تحت صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مالی معاونت سے جاری ہے۔ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ سندھ مظہر کیریو نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ بحال کی گئی زمین تھرپارکر، عمرکوٹ، ٹنڈو آدم اور خیرپور میرس میں واقع ہے جو مٹی میں نمکیات اور پانی کھڑا رہنے کے شدید مسائل کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایسی فصلیں اور پودے کاشت کر کے نمکیات اور پانی جمع ہونے والی زمین کو قابلِ کاشت بنانا ہے جو زیادہ نمک اور نمی برداشت کر سکیں۔ وقت کے ساتھ یہ حیاتیاتی طریقہ مٹی میں نمکیات کم کرتا ہے اور مٹی کی ساخت بہتر بناتا ہے جس سے زمین مزید فصلوں کے لیے موزوں ہو جاتی ہے۔اس وقت منصوبے کے تحت فالسا، چیکو سفیدہ، اسپغول، سرسوں، لیموں اور بیریز جیسی فصلیں کاشت کی جا رہی ہیںکیونکہ یہ فصلیں نمکیات اور پانی جمع ہونے والی زمین کے لیے موزوں ہیں۔مظہر کیریو نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں یہ زمین مزید زرخیز ہو جائے گی اور اس پر دوسری فصلیں بھی اگائی جا سکیں گی۔
مقصد یہ ہے کہ بنجر زمین کو آہستہ آہستہ پیداواری زرعی زمین میں تبدیل کیا جائے۔بایو سالین زراعت کے اس منصوبے کی منظوری 5 اکتوبر 2022 کو دی گئی تھی اور ابتدا میں اسے تھرپارکر، خیرپور میرس اور عمرکوٹ میں شروع کیا گیا۔ اس منصوبے کی مجموعی منظور شدہ لاگت 20 کروڑ روپے ہے۔منصوبے کے تحت اہم سرگرمیوں میں تحقیقی تجربات اور کسانوں کی زمینوں پر نمک برداشت کرنے والی فصلوں، درختوں، گھاس اور پودوں کے نمائشی پلاٹس قائم کرنا شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد زمین کی پیداوار بڑھانا، کسانوں کی آمدن میں اضافہ کرنا اور دیہی علاقوں میں غربت کم کرنا ہے۔اس منصوبے میں مقامی آبادی کی شمولیت کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے جس کے لیے سالٹ لینڈ یوزر گروپس بنائے گئے ہیں تاکہ لوگ خود زمین کی بحالی میں حصہ لیں۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید زرعی طریقے اور پانی کے موثراستعمال کے نظام، خاص طور پر تھر جیسے خشک علاقوں میںمتعارف کرائے جا رہے ہیں۔سندھ میں اب بھی مٹی میں نمکیات اور پانی جمع ہونے کا مسئلہ بڑے پیمانے پر موجود ہے جس سے لاکھوں ہیکٹر قابلِ کاشت زمین متاثر ہے۔ سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی اور دیگر ادارے بھی نمکین پانی کے استعمال اور سخت موسمی حالات کے لیے موزوں فصلوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔یہ منصوبہ بایو سالین زرعی مصنوعات سے وابستہ کاروباروں کے لیے سرمایہ کاری میں سبسڈی فراہم کر کے ویلیو چین کی ترقی میں بھی مدد دے رہا ہے تاکہ دیہی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔یہ منصوبہ 2026 میں مکمل کیا جائے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک