وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے تحت یونیورسل سروس فنڈ نے 2025 میں ملک بھر میں براڈ بینڈ رابطے کو بہتر بنانے کے لیے کئی بڑے آپٹیکل فائبر کیبل منصوبے مکمل کر لیے ہیں۔یہ منصوبے مختلف صوبوں اور اضلاع میں مکمل کیے گئے ہیںجو پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز کے مطابق خیبر پختونخوا میں او ایف سی کے پی کے پیکیج ٹو منصوبے کے تحت 800 کلومیٹر آپٹیکل فائبر بچھائی گئی جس سے باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی اور دیگر اضلاع کو فائدہ پہنچا۔ اس منصوبے سے 38 یونین کونسلز اور تحصیل ہیڈکوارٹرز مستفید ہوئے اور اس پر 2.15 ارب روپے خرچ ہوئے۔اسی طرح پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور مردان میں او ایف سی یو سی کے پی لاٹ 17 منصوبے کے تحت 756 کلومیٹر آپٹیکل فائبر بچھائی گئی جس سے 78 یونین کونسلز اور تحصیل ہیڈکوارٹرز کو سہولت ملی۔ اس منصوبے پر تقریبا 1.51 ارب روپے لاگت آئی جس سے علاقے میں رابطے کا نظام مزید مضبوط ہوا۔پنجاب میں او ایف سی یو سی پی بی لاٹ 8 منصوبہ میانوالی ضلع میں 341 کلومیٹر پر محیط ہے جس کے ذریعے 29 یونین کونسلز اور تحصیل ہیڈکوارٹرز کو جوڑا گیا۔ اس منصوبے کے لیے 552 ملین روپے کی سبسڈی دی گئی۔سندھ میں بھی 2025 کے دوران نمایاں پیش رفت ہوئی جہاں دو منصوبے مکمل کیے گئے۔
او ایف سی یو سی ایس ڈی لاٹ 10 منصوبہ دادو اور جامشورو سمیت مختلف اضلاع میں 712 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جس سے 54 یونین کونسلز اور تحصیل ہیڈکوارٹرز منسلک ہوئے اور اس پر 1.33 ارب روپے خرچ کیے گئے۔سندھ ہی میں او ایف سی یو سی ایس ڈی لاٹ 11 منصوبے کے تحت لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ اضلاع میں 645 کلومیٹر آپٹیکل فائبر بچھائی گئی جس سے 62 یونین کونسلز اور تحصیل ہیڈکوارٹرز مستفید ہوئے۔ اس منصوبے پر مجموعی طور پر 1.52 ارب روپے خرچ ہوئے۔ایک اور منصوبہ او ایف سی یو سی ایس ڈی لاٹ 12 حیدرآباد اور بدین جیسے اضلاع میں 766 کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس منصوبے کے تحت 50 یونین کونسلز اور تحصیل ہیڈکوارٹرز کو سہولت دی گئی اور اس کے لیے 1.8 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی۔مجموعی طور پر ان منصوبوں کے تحت تینوں صوبوں میں 4,023 کلومیٹر آپٹیکل فائبر بچھائی گئی جس سے 311 یونین کونسلز اور تحصیل ہیڈکوارٹرز کو فائدہ پہنچا۔ یہ منصوبے حکومت کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد خاص طور پر دیہی اور کم سہولیات والے علاقوں میں براڈ بینڈ رسائی کو بہتر بنانا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بیس ٹرانسیور اسٹیشنز کو فائبر سے جوڑنے کا عمل بھی جاری ہے۔ یہ کوششیں ملک بھر میں ڈیجیٹل سہولیات کو بہتر بنانے، ٹیلی کمیونیکیشن شعبے کو مضبوط کرنے اور مجموعی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک