آئی این پی ویلتھ پی کے

دیامر بھاشا ڈیم کے مالیاتی منصوبے میں غیر ملکی تجارتی قرضوں کا سب سے بڑا حصہ،ویلتھ پاکستان

August 06, 2026

دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے لیے 2.648 کھرب روپے کے مالیاتی منصوبے میں 1.010 کھرب روپے کے غیر ملکی تجارتی قرضے سب سے بڑا حصہ ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب وزارتِ آبی وسائل کی دستاویز کے مطابق منصوبے کی مالیاتی حکمت عملی میں وفاقی ترقیاتی پروگرام پی ایس ڈی پی کے فنڈز، واپڈا کی ایکویٹی، مقامی اور غیر ملکی تجارتی قرضے اور تعمیر کے دوران ادا کیے جانے والے سود کو شامل کیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق منصوبہ دو بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں ڈیم، آبی ذخیرہ اور اراضی کے حصول کے کام شامل ہیں جن پر 1.224 کھرب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ بجلی پیدا کرنے والے حصے کی لاگت 1.424 کھرب روپے مقرر کی گئی ہے۔ڈیم، آبی ذخیرے اور اراضی کے حصول کے منصوبے میں 930 ارب روپے مقامی اخراجات اور 1.46 ارب امریکی ڈالر کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کی ضرورت ہوگی۔بجلی پیدا کرنے کے حصے پر 708 ارب روپے مقامی اخراجات اور 2.555 ارب امریکی ڈالر کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کی ضرورت کا تخمینہ ہے۔ اس طرح دونوں حصوں کی مجموعی لاگت 2.648 کھرب روپے بنتی ہے۔دستاویز میں منصوبے کے لیے مجوزہ مالیاتی ڈھانچے کی بھی تفصیلات دی گئی ہیں۔اس کے مطابق 1.010 کھرب روپے تقریبا 3.997 ارب امریکی ڈالر کے غیر ملکی تجارتی قرضے منصوبے کے لیے سب سے بڑا مالیاتی ذریعہ ہوں گے۔اس کے بعد 705 ارب روپے تقریبا 2.517 ارب امریکی ڈالر پر مشتمل پی ایس ڈی پی گرانٹ دوسرا بڑا ذریعہ ہوگی۔تعمیر کے دوران سود کی مد میں 467 ارب روپے تقریبا 1.670 ارب امریکی ڈالر مختص کیے گئے ہیں جبکہ واپڈا کی ایکویٹی 236 ارب روپے تقریبا 844 ملین امریکی ڈالر اور مقامی تجارتی قرضوں کا حجم 230 ارب روپے تقریبا 820 ملین امریکی ڈالر رکھا گیا ہے۔

روپوں میں یہ پانچوں مالیاتی ذرائع ملا کر منصوبے کی مجموعی لاگت 2.648 کھرب روپے بنتی ہے جبکہ ان کی مجموعی مالیت 9.848 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔اعداد و شمار کے مطابق منصوبے کے مجموعی مالیاتی پلان میں غیر ملکی تجارتی قرضوں کا حصہ 38.14 فیصد ہے جبکہ پی ایس ڈی پی کا حصہ 26.62 فیصد ہے۔ تعمیر کے دوران سود کی مد 17.64 فیصد، واپڈا کی ایکویٹی 8.91 فیصد اور مقامی تجارتی قرضوں کا حصہ 8.69 فیصد بنتا ہے۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 4 ارب امریکی ڈالر کی غیر ملکی مالی معاونت درکار ہے۔اس میں سے 50 کروڑ امریکی ڈالر واپڈا کے جاری کردہ گرین یورو بانڈ کے ذریعے دستیاب ہیں جبکہ باقی 3.5 ارب امریکی ڈالر کا انتظام ابھی کیا جانا باقی ہے۔اس طرح جاری کردہ گرین یورو بانڈ مجموعی غیر ملکی مالی ضرورت کا 12.5 فیصد پورا کرتا ہے جبکہ باقی 87.5 فیصد کے لیے ابھی مالی وسائل حاصل کرنا ہوں گے۔تاہم وزارتِ آبی وسائل کی دستاویز میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ باقی غیر ملکی قرضے کن مالیاتی اداروں یا قرض دہندگان سے حاصل کیے جائیں گے۔ اسی طرح قرضوں پر شرحِ سود، واپسی کی شرائط، مدت یا فنڈز کے حصول کا شیڈول بھی دستاویز میں شامل نہیں کیا گیا۔دستاویز کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر ملکی تجارتی قرضوں، وفاقی ترقیاتی فنڈز، واپڈا کی ایکویٹی، مقامی تجارتی قرضوں اور تعمیر کے دوران سود کی مد کو یکجا کرتے ہوئے جامع مالیاتی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک