آئی این پی ویلتھ پی کے

ترقیاتی فنڈز کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کی نئی ترجیحی حکمتِ عملی متعارف،ویلتھ پاکستان

June 10, 2026

وفاقی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب محدود وسائل کے موثر استعمال اور بڑھتے ہوئے مالی دبا ئوسے نمٹنے کیلئے ایک نئی ترجیحی حکمتِ عملی متعارف کرا دی ہے، جسے "راک فل سٹریٹجی" کا نام دیا گیا ہے۔سالانہ منصوبہ رابطہ کمیٹی کے لیے تیار کی گئی ایک پریزینٹیشن کے مطابق اس حکمتِ عملی کے تحت ترقیاتی منصوبوں کو ان کے حجم اور منظوری کی سطح کی بنیاد پر تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے: بڑے منصوبے، درمیانے منصوبے اور چھوٹے منصوبے۔ اس اقدام کا مقصد مالی وسائل کی کمی کے دوران زیادہ اہمیت کے حامل منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کرنا ہے۔نئے نظام کے مطابق 7.5 ارب روپے سے زائد لاگت اور قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی سے منظور شدہ منصوبے بڑے منصوبے قرار دئیے گئے ہیں۔ ایک ارب سے 7.5 ارب روپے تک لاگت والے اور مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی سے منظور شدہ منصوبے درمیانے منصوبوں میں شامل ہیں جبکہ ایک ارب روپے سے کم لاگت والے اور محکمانہ ترقیاتی فورمز سے منظور شدہ منصوبے چھوٹے منصوبوں کے زمرے میں رکھے گئے ہیں۔دستاویز کے مطابق وفاقی سطح پر جاری 786 ترقیاتی منصوبوں میں سے 197 بڑے، 335 درمیانے اور 254 چھوٹے منصوبے ہیں۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعداد کے اعتبار سے صرف ایک چوتھائی ہونے کے باوجود بڑے منصوبے وفاقی ترقیاتی پروگرام پر سب سے زیادہ مالی بوجھ رکھتے ہیں۔

ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 14.687 کھرب روپے ہے جبکہ ان کی تکمیل کے لیے مستقبل میں مزید 10.065 کھرب روپے درکار ہوں گے۔مالی سال 2025-26 کے دوران بڑے منصوبوں کو 813 ارب روپے مختص کیے گئے جو مجموعی ترقیاتی پروگرام کے 81 فیصد کے برابر ہیں۔ ان منصوبوں کو رواں مالی سال میں مزید 439 ارب روپے جبکہ آئندہ مالی سال 2026-27 میں تقریبا 2.95 کھرب روپے درکار ہوں گے۔دوسری جانب درمیانے درجے کے 335 منصوبوں کی مجموعی لاگت 1.045 کھرب روپے ہے جبکہ ان کی تکمیل کے لیے 669 ارب روپے مزید درکار ہیں۔ ان منصوبوں کو مالی سال 2025-26 میں 148 ارب روپے مختص کیے گئے جو کل ترقیاتی فنڈز کا 15 فیصد بنتے ہیں جبکہ اگلے مالی سال میں انہیں 349 ارب روپے درکار ہوں گے۔چھوٹے منصوبوں کی تعداد 254 ہے جن کی مجموعی لاگت 133 ارب روپے اور بقایا مالی ضرورت 84 ارب روپے ہے۔ ان منصوبوں کے لیے 39 ارب روپے مختص کیے گئے جو کل ترقیاتی بجٹ کا 4 فیصد ہیں جبکہ مالی سال 2026-27 میں ان کے لیے 78 ارب روپے درکار ہوں گے۔ بڑے منصوبوں کو مزید دو ذیلی درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

انتہائی بڑے منصوبوں میں پانچ ایسے منصوبے شامل ہیں جن کی لاگت 500 ارب روپے سے زائد ہے۔ ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 5.926 کھرب روپے اور بقایا مالی ضرورت 4.575 کھرب روپے ہے۔اسی طرح درمیانے بڑے منصوبوں کی تعداد 19 ہے جن کی لاگت 100 ارب سے 500 ارب روپے کے درمیان ہے۔ ان کی مجموعی لاگت 3.801 کھرب روپے جبکہ بقایا مالی ضرورت 2.638 کھرب روپے بتائی گئی ہے۔دستاویز کے مطابق چند بڑے منصوبوں میں ترقیاتی واجبات کا ارتکاز پاکستان کے وفاقی ترقیاتی پروگرام کی نمایاں خصوصیت بن چکا ہے۔منصوبہ بندی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی بقایا مالی ذمہ داریاں 10.818 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہیں جبکہ جاری منصوبوں کے لیے مالی سال 2026-27 میں 3.377 کھرب روپے درکار ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں مجوزہ بجٹ حد صرف 1.126 کھرب روپے مقرر کی گئی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ نئی ترجیحی حکمتِ عملی محدود ترقیاتی وسائل کو زیادہ اہم اور قومی ترجیحات سے ہم آہنگ منصوبوں کی جانب منتقل کرنے میں مدد دے گی جبکہ بڑھتے ہوئے مالی دبا کے باوجود ترقیاتی عمل کو مثر انداز میں جاری رکھا جا سکے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک