مشرقِ وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے گرد، شپنگ چارجز اور جنگی خطرات کے بیمہ پریمیم میں اضافے کا سبب بن رہی ہے جس کے باعث پاکستان کے درآمدی اخراجات پر دبا برقرار رہ سکتا ہے، مہنگائی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں اور بیرونی کھاتوں پر دبائو پڑ سکتا ہے۔اب خطرہ صرف عالمی تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہا۔ مشرقِ وسطی کی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کو ممکنہ خلل کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے جس کے باعث پاکستان کو وسیع تر لاگتی چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کی بڑی مقدار میں تیل اور ایل این جی کی درآمدات خلیجی بحری راستوں سے گزرتی ہیںجس سے نقل و حمل اور بیمہ کے اخراجات مزید اہم ہو گئے ہیں۔یہ کمزوری اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کیا جس کے بعد پٹرول 321.17 روپے اور ڈیزل 335.86 روپے فی لیٹر ہو گیا۔ توقع ہے کہ اس اضافے کے اثرات ٹرانسپورٹ اخراجات اور صارفین کی قیمتوں پر پڑیں گے۔ اس طرح اب اصل تشویش صرف ایندھن کی قیمت نہیں بلکہ توانائی کی درآمد اور ترسیل کی مجموعی لاگت ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی مارچ 2026 کی رپورٹ ایران خلیج تعاون کونسل تنازع کے پاکستان پر معاشی اور بینکاری اثرات میں بتایا گیا ہے کہ ملک کو زیادہ توانائی درآمدی اخراجات، بیرونی توازن پر دبا اور مہنگائی کے پھیلا کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم درآمدات پاکستان کے کل درآمدی بل کا تقریبا پانچواں حصہ ہیں۔ اندازہ ہے کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سالانہ پیٹرولیم درآمدی بل میں 1.4 ارب سے 4.7 ارب ڈالر تک اضافہ کر سکتا ہیحتی کہ علاقائی شپنگ راستوں میں جزوی خلل بھی تیل کی قیمتوں، فریٹ ریٹس اور بیمہ پریمیم میں اضافہ کر سکتا ہے۔یہ دبا مالیاتی بہا تک بھی پھیلتا ہے۔ مالی سال 2025 کے تجارتی رجحانات کی بنیاد پر پاکستان کے بینکاری شعبے کو کسی بھی وقت تقریبا 9 سے 22 ارب ڈالر کے تجارتی فنانس کا سامنا ہوتا ہے۔ شپنگ میں خلل، اجناس کی بڑھتی قیمتیں اور زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھا تجارتی فنانسنگ اور لیکویڈیٹی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ترسیلاتِ زر بھی ایک اہم خطرے کا ذریعہ ہیں۔ جولائی تا جنوری مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کو تقریبا 23.2 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں جن میں سے 53.6 فیصد خلیجی ممالک سے آئیں۔ اس لیے طویل علاقائی عدم استحکام تجارت اور ترسیلات دونوں کے ذریعے بیرونی شعبے کو متاثر کر سکتا ہے۔اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ اسٹریٹجک رسک اسسمنٹ: آبنائے ہرمز میں خلل اور پاکستان کی توانائی پر انحصار میں بھی اسی طرح کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے جس میں پاکستان کی درآمدی ایندھن پر ساختی انحصار کو اجاگر کیا گیا ہے۔اس کے مطابق خام تیل ملک کی تقریبا 85 فیصد ضروریات پوری کرتا ہیجبکہ ایل این جی گیس کی فراہمی کا تقریبا 35 سے 40 فیصد حصہ ہے جس کا بڑا حصہ قطر سے حاصل ہوتا ہے۔
حتی کہ اگر ترسیل جاری بھی رہے تو فریٹ چارجز، جنگی بیمہ اور تاخیر کے باعث توانائی کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پائیدار ترقی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلیری نے کہا کہ یہ صورتحال کئی جہتی جھٹکا ہے۔ یہ خطرہ سنگین ہے کیونکہ یہ صرف تیل کا نہیں بلکہ فریٹ، بیمہ اور لاجسٹکس کا بھی بحران ہے۔انہوں نے کہا کہ خلیج میں جنگی خطرے کے بیمہ پریمیم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ شپنگ راستوں میں تبدیلی سے وقت اور اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ ہنگامی فیول سرچارجز بھی درآمدی لاگت میں اضافہ کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وقت نہایت حساس ہے۔ جولائی تا فروری مالی سال 2026 میں پاکستان کی درآمدات پہلے ہی 41.8 ارب ڈالر تھیں اور کرنٹ اکانٹ خسارہ 0.7 ارب ڈالر تھا، اس لیے فریٹ اور ایندھن کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی بیرونی توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔مہنگائی کے خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیل اور سپلائی میں خلل قیمتوں میں مسلسل اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔ چونکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر پیٹرولیم کا تقریبا 80 فیصد استعمال کرتا ہے، اس لیے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر کرایوں، خوراک اور دیگر اشیا پر اثر انداز ہوتا ہے۔عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے کہا کہ حالیہ کشیدگی میں کمی صرف محدود ریلیف فراہم کرتی ہے۔
فریٹ لاگت اور تیل کی قیمتوں کے خطرات اب بھی بلند ہیں، جو پاکستان کے درآمدی بل، مہنگائی اور بیرونی استحکام کے لیے چیلنج ہیں۔انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرنٹ اکانٹ خسارے کو بڑھا سکتا ہے اور مہنگائی کو دوبارہ ہوا دے سکتا ہے۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے انہوں نے محتاط توانائی حکمتِ عملی، مناسب زرِ مبادلہ ذخائر اور درآمدات میں توازن کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کمزور طبقات کے لیے ہدفی امداد، سپلائی چین کی بہتری اور برآمدات و پیداوار بڑھانے کے لیے ساختی اصلاحات کی اہمیت بھی اجاگر کی۔رپورٹ کے مطابق فروری 2026 کے آخر تک پاکستان کے کل زرمبادلہ ذخائر تقریبا 21.4 ارب ڈالر تھے جن میں سے 16.3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس تھے۔ تاہم، خبردار کیا گیا ہے کہ طویل خلل کی صورت میں یہ ذخائر محدود تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔پاکستان کے لیے سبق واضح ہے: خلیجی شپنگ راستوں میں غیر یقینی صورتحال خود ایک بڑا معاشی خطرہ بن چکی ہے۔ فریٹ اور بیمہ اخراجات پر مسلسل دبا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ توانائی کی سپلائی میں تنوع، تجارتی مضبوطی اور بہتر معاشی نظم و نسق ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل کے خطرات سے بچا جا سکے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک