پاکستان میں شدید موسمی واقعات کی بڑھتی ہوئی شدت نے ایک زیادہ فعال اور ڈیٹا پر مبنی ڈیزاسٹر مینجمنٹ فریم ورک کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے جبکہ چین کا مربوط کلائمیٹ مانیٹرنگ نظام ابتدائی وارننگ کی صلاحیت بہتر بنانے اور معاشی نقصانات کم کرنے کے لیے ایک ممکنہ ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یہ ضرورت خاص طور پر 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے بعد سامنے آئی جن سے تقریبا 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور 80 لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے سالانہ اوسطا تقریبا 1 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ 2022 کے سیلاب میں 14.9 ارب ڈالر سے زائد نقصان اور مجموعی طور پر تقریبا 15.2 ارب ڈالر کے معاشی خسارے ہوئے۔اس کے مقابلے میں چین نے زمین، سمندر، فضا اور خلا پر مبنی مشاہداتی نظاموں کو یکجا کر کے دنیا کے سب سے جامع کلائمیٹ مانیٹرنگ سسٹمز میں سے ایک تیار کیا ہے۔ چین کی وزارت برائے ماحولیات و ماحولیات تحفظ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 90 ہزار سے زائد خودکار موسمیاتی اسٹیشنز، متعدد فینگ یون سیٹلائٹس اور دنیا کا سب سے بڑا ویدر ریڈار نیٹ ورک موجود ہے، جو ریئل ٹائم ڈیٹا اور ملٹی لیئر فورکاسٹنگ فراہم کرتا ہے۔
یہ نظام مزید وسعت پا رہا ہے۔ یکم اپریل 2026 کو چین نے ژونگ آن نیو ایریا میں 27واں قومی کلائمیٹ آبزرویٹری قائم کیا، جہاں مرکزی اور ذیلی اسٹیشنز مسلسل ڈیٹا ایک کلاڈ بیسڈ بگ ڈیٹا پلیٹ فارم کو فراہم کرتے ہیں تاکہ ابتدائی وارننگ اور مخصوص شعبوں کی پیشگوئی بہتر ہو سکے۔اس کے برعکس پاکستان کا موسمیاتی نگرانی کا نظام محدود ہے۔ ورلڈ بینک کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ریڈار کوریج 50 فیصد سے کم علاقوں تک محدود ہے، جبکہ 170 میں سے صرف 97 اضلاع میں موسمیاتی مراکز موجود ہیں اور خودکار ویدر اسٹیشنز صرف 40 اضلاع تک فعال ہیں۔ان خلا کو پر کرنے کے لیے پاکستان نے ورلڈ بینک کے تعاون سے اس پروگرام کے تحت 2028 تک 4 ویدر ریڈارز اور 110 خودکار موسمیاتی اسٹیشنز لگانے کا منصوبہ بنایا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل چیلنج نظام کی وسعت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ہے۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے ماحولیاتی سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رضوان رشید نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو میں کہا کہ چین کا ماڈل ایک مفید حوالہ ضرور ہے، مگر پاکستان کو طویل المدتی کلائمیٹ انفراسٹرکچر کے لیے معاشی پائیداری کو بنیادی شرط بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں پائیدار موسمیاتی نظام کے لیے پہلے اقتصادی استحکام ضروری ہوتا ہے، اور اگرچہ چین سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت میں مدد مل سکتی ہے، لیکن بیرونی فنڈنگ پر انحصار مالی دبا بڑھا سکتا ہے۔اسٹرینتھننگ پارٹیسپیٹری آرگنائزیشن کے کلائمیٹ ماہر جنید اقبال اعوان نے کہا کہ پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر خطرناک علاقوں جیسے گلیشیئر وادیوں، سیلابی بیسنز اور ساحلی علاقوں میں نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ چین کی اصل طاقت صرف جدید آلات نہیں بلکہ مختلف ڈیٹا سسٹمز کا مثر انضمام اور مضبوط ادارہ جاتی رابطہ ہے۔ پاکستان کے لیے فوری ضرورت یہ ہے کہ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ، واپڈا، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی اداروں کے درمیان قابلِ نفاذ ڈیٹا شیئرنگ نظام قائم کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کی مصنوعی ذہانت اور کلاڈ بیسڈ فورکاسٹنگ نے ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے پیشگوئی کو بہتر بنایا ہے، تاہم پاکستان کو مقامی صلاحیت بھی مضبوط کرنی ہوگی تاکہ طویل المدتی انحصار سے بچا جا سکے۔سیٹلائٹ صلاحیتوں کے حوالے سے ماہرین نے کہا کہ پاکستان فوری طور پر مکمل ڈیٹا خودمختاری حاصل نہیں کر سکتا، مگر مختلف علاقائی شراکت داریوں کے ذریعے اپنی استعداد بڑھا سکتا ہے۔ماہرین نے کمیونٹی بیسڈ آبزرویشن کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ چترال، ہنزہ اور اسکردو جیسے علاقوں میں مقامی لوگ اکثر گلیشیئرز، دریا کے بہا اور جانوروں کے رویے میں تبدیلیاں سرکاری وارننگ سے پہلے محسوس کر لیتے ہیں۔
جنید اعوان نے تجویز دی کہ ان مقامی مشاہدات کو باقاعدہ نظام کا حصہ بنایا جائے، کمیونٹی رضاکاروں کو تربیت دی جائے اور موبائل رپورٹنگ ٹولز متعارف کروائے جائیں تاکہ مقامی معلومات اور تکنیکی نظام کے درمیان رابطہ مضبوط ہو۔وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کے افسر سعد اقبال نے کہا کہ پاکستان چین کے مربوط ماڈل سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جس میں ویدر اسٹیشنز، سیٹلائٹ سسٹمز اور گرانڈ سینسرز کو ایک متحد نظام میں شامل کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کی مصنوعی ذہانت اور بگ ڈیٹا اینالٹکس پیشگوئی کی درستگی بہتر بنانے کے لیے اہم سبق فراہم کرتی ہیں، جبکہ فلڈ کنٹرول اور پانی کے بڑے منصوبے بھی طویل المدتی منصوبہ بندی کی مثال ہیں۔ماہرین کے مطابق پاکستان کے کلائمیٹ مانیٹرنگ نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری، ادارہ جاتی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مقامی علم کے انضمام کی ضرورت ہے۔جیسے جیسے موسمیاتی خطرات بڑھ رہے ہیں، چین کے ساتھ قریبی تعاون پاکستان کو ایک ایسے نظام کی طرف لے جا سکتا ہے جو ردعمل پر نہیں بلکہ پیشگی خطرے کے انتظام پر مبنی ہو اور یوں انسانی جانوں، انفراسٹرکچر اور معیشت کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک