i آئی این پی ویلتھ پی کے

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات, چین اور بنگلہ دیش کے لیے ملے جلے رجحانات: ویلتھ پاکستانتازترین

May 06, 2026

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی ماہانہ برآمدی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات علاقائی منڈیوں خصوصا چین اور بنگلہ دیش کے لیے مختلف رجحانات کی عکاسی کرتی ہیں۔زیرِ جائزہ مدت میں بنگلہ دیش کو برآمدات 485 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ بنگلہ دیش پاکستان کے لیے ایک اہم مارکیٹ رہا ہے جہاں بنیادی طور پر خام ٹیکسٹائل مواد، خصوصا کاٹن یارن اور کپڑے کی برآمدات ہوتی ہیں۔ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش کو برآمدات گزشتہ چند سالوں سے مسلسل کمی کا شکار رہی ہیں جو 202122 میں 619 ملین ڈالر سے کم ہو کر بتدریج نیچے آتی گئیں۔اس مارکیٹ میں ڈینم اور کاٹن پر مبنی مصنوعات نمایاں رہیں جبکہ کاٹن ویوون فیبرکس اور یارن مجموعی برآمدات کا بڑا حصہ بنے رہے۔اس کے برعکس چین کو برآمدات جولائی تا مارچ مالی سال 2026 میں 470 ملین ڈالر رہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران اتار چڑھا کا رجحان ظاہر کرتی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق چین کے لیے برآمدات 202324 میں 674 ملین ڈالر کی بلند سطح تک پہنچنے کے بعد بعد کے عرصے میں کمی کا شکار ہوئیں۔چین کی درآمدی طلب میں پاکستان سے بنیادی طور پر خام مال، خصوصا کاٹن یارن، غالب رہا ہے جو برآمدی مکس میں نمایاں اضافہ دکھاتا ہے۔دیگر کیٹیگریز، جن میں ملبوسات اور تیار شدہ ٹیکسٹائل مصنوعات شامل ہیں، چین کو برآمدات میں نسبتا کم حصہ رکھتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ چین اور بنگلہ دیش دونوں پاکستان کے اہم علاقائی تجارتی شراکت دار ہیں لیکن ان کی درآمدی ساخت مغربی منڈیوں سے مختلف ہے جہاں خام مال کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی طلب زیادہ ہوتی ہے۔رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ علاقائی برآمدی رجحانات میں مسلسل اتار چڑھا دیکھا جا رہا ہیجو ہمسایہ ممالک میں طلب کے پیٹرنز اور تجارتی سرگرمیوں میں تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک