اسلامک ڈیولپمنٹ بینک نے آزاد جموں و کشمیر میں ہزاروں اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لئے 10 ملین ڈالر کے قرض سے مالی اعانت یافتہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے، ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ معاہدہ 19 جنوری 2026 کو دستخط کیا گیا تھا تاہم اس کی عملی اور مالی سرگرمیاں ابھی شروع نہیں ہوئیں۔یہ منصوبہ اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کرنے اور انہیں بہتر تعلیمی سہولیات، آگاہی پروگراموں اور ہدفی داخلہ مہمات کے ذریعے رسمی تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔اس منصوبے سے ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور آزاد جموں و کشمیر میں بچوں کے اسکولوں میں داخلے اور ان کی برقرار رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔منصوبہ شروع ہونے کے بعد توقع ہے کہ یہ خطے میں شرح خواندگی کو بہتر بنانے اور وسیع تعلیمی ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد دے گا۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی ہدفی مداخلتیں پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کم کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں جو دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ میں شمار ہوتی ہے۔اندازے کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں 6 سے 16 سال کی عمر کے تقریبا 2 لاکھ 16 ہزار بچے اسکول سے باہر ہیں، حالانکہ یہ خطہ پاکستان میں نسبتا زیادہ شرح خواندگی رکھتا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک سروے کے مطابق اسکول جانے کی عمر کے بچوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی رسمی تعلیمی اداروں میں داخل نہیں ہے۔ یہ خطے کی بچوں کی آبادی کا ایک نمایاں حصہ ہے جہاں تقریبا ہر پانچ میں سے ایک بچہ تعلیم سے محروم ہے۔اس مسئلے کی بنیادی وجوہات میں غربت، دور دراز پہاڑی علاقوں میں اسکولوں تک محدود رسائی، اساتذہ کی کمی اور تعلیمی سہولیات کی قلت شامل ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک