i آئی این پی ویلتھ پی کے

چین کی صحت کے شعبے میں اصلاحات پاکستان کے ہیلتھ سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے رہنما ثابت ہو سکتی ہیں: ویلتھ پاکستانتازترین

April 02, 2026

چین کے 2026۔2030 کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے میں ایک مضبوط اور جامع صحت کے نظام کی تشکیل پر نئی توجہ دی گئی ہے، جس کے پاکستان میں صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے، اخراجات کم کرنے اور عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔یہ منصوبہ ہسپتالوں پر مبنی علاج سے ہٹ کر احتیاطی، کمیونٹی سطح اور ڈیجیٹل سہولیات پر مبنی نظام کی طرف منتقلی کو ظاہر کرتا ہے، جو چین کے اس وسیع تر ہدف کی عکاسی کرتا ہے کہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ معیارِ زندگی کو بھی بہتر بنایا جائے۔اس حکمتِ عملی کا مرکزی نقطہ ہیلتھی چائنا اقدام ہے، جس کا مقصد عوامی صحت کو بہتر بنانا، اوسط عمر میں اضافہ کرنا اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان فرق کو کم کرنا ہے۔ پالیسی سازوں کے مطابق 20262030 کا دور مربوط صحت اصلاحات کو آگے بڑھانے اور عوامی صحت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے نہایت اہم ہوگا۔اس منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت بنیادی سطح کے صحت کے اداروں کا فروغ ہے۔ چین ایک درجہ بند صحت کا نظام تشکیل دے رہا ہے، جس میں کمیونٹی کلینکس اور مقامی صحت مراکز مریضوں کے لیے پہلا رابطہ بنیں گے، جس سے بڑے ہسپتالوں پر انحصار کم ہوگا۔یہ ماڈل نہ صرف سہولیات تک رسائی بہتر بناتا ہے بلکہ اخراجات کم کرتا ہے اور بڑے ہسپتالوں پر دبا بھی کم کرتا ہے، جبکہ صحت کے زیادہ منصفانہ نتائج کو فروغ دیتا ہے۔

پاکستان کے لیے، جہاں ہسپتالوں پر زیادہ بوجھ ہے اور بنیادی صحت کا نظام کمزور ہے، یہ ماڈل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بنیادی صحت کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ خدمات کی فراہمی بہتر ہو سکے۔ڈیجیٹلائزیشن چین کی صحت کی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ منصوبے میں ٹیلی میڈیسن، الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز اور ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ کارکردگی بہتر ہو اور صحت کی سہولیات تک رسائی میں اضافہ ہو۔یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک خدمات پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں، جہاں دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات محدود ہیں، اسی طرح کے ڈیجیٹل حل خدمات کے خلا کو پر کرنے اور مریضوں کے نتائج بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔چین احتیاطی صحت پر بھی زیادہ زور دے رہا ہے، جس میں ابتدائی تشخیص، صحت سے متعلق آگاہی اور باقاعدہ اسکریننگ شامل ہیں۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد بیماریوں کے طویل مدتی بوجھ اور صحت کے اخراجات کو کم کرنا ہے، جو علاج پر مبنی نظام سے احتیاطی ماڈل کی طرف ایک اہم تبدیلی ہے۔ڈاکٹر تحسین فاطمہ، جو عالمی ادارہ صحت میں سابق پروگرام افسر رہ چکی ہیں، نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا صحت کا نظام اب بھی زیادہ تر علاج پر مبنی ہے۔

ان کے مطابق عوامی صحت کے بہتر نتائج اور اخراجات میں کمی کے لیے احتیاطی نگہداشت اور بنیادی صحت کے نیٹ ورک میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔پون کمار، جو پاکستان ریڈ کریسنٹ کے سابق ہیلتھ آفیسر ہیں، نے کہا کہ محدود وسائل والے ماحول میں ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر انقلابی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹیلی میڈیسن اور مربوط ڈیٹا سسٹمز خاص طور پر دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھانے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔کمار نے ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ چین کی صحت اصلاحات قومی اور مقامی سطح پر مضبوط رابطے کی بدولت کامیاب ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں، منتشر حکومتی ڈھانچے اکثر مثر خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ بنتے ہیں، اس لیے وفاقی اور صوبائی صحت کے نظام کے درمیان بہتر ہم آہنگی کارکردگی اور جوابدہی کو بہتر بنا سکتی ہے۔چین کی صحت کی حکمتِ عملی دراصل انسان مرکز ترقی کی طرف ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں رسائی، احتیاط اور ٹیکنالوجی کے انضمام کو بنیادی ترجیح دی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنا کر، ڈیجیٹل ہیلتھ میں سرمایہ کاری کر کے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو بہتر بنا کر ایک زیادہ مضبوط اور جامع صحت کا نظام تشکیل دے سکتا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک