پنجاب کے زرعی سائنسدان تیزی سے پھیلتی ہوئی پاستا انڈسٹری کی بڑھتی طلب کو پورا کرنے کے لیے ڈورم گندم کی نئی اقسام تیار اور فروغ دے رہے ہیں۔پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ نے فیصل آباد کے ویٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو ڈورم گندم کی اقسام تیار کرنے اور انہیں مقبول بنانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ڈبلیو آر آئی کے چیف سائنسدان ڈاکٹر جاوید احمد نے ویلتھ پاکستان کو بتایاکہ ہم نے عام گندم کے ساتھ ساتھ ڈورم گندم کی کئی اقسام تیار کی ہیں۔پاکستان میں ڈورم گندم اپنی زیادہ پروٹین اور گلوٹن مقدار کے باعث اعلی معیار کے آٹے اور سوجی بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیجو نوڈلز، میکرونی، سپیگٹی اور سویاں جیسے پاستا مصنوعات میں استعمال ہوتی ہیں۔ڈاکٹر جاوید کے مطابق ڈورم گندم 1960 کی دہائی سے پہلے پنجاب کی فصلوں کا حصہ تھی۔انہوں نے کہاکہ گرین ریولوشن کے دوران زیادہ پیداوار دینے والی گندم کی اقسام جیسے میکسی پاک متعارف ہونے سے پہلے یہ علاقے میں کاشت ہونے والی تقریبا 25 اقسام میں شامل تھی۔فیصل آباد کے ویٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے پہلی ڈورم گندم کی قسم ودانک-85 تیار کی جس کے بعد ڈورم-97 آئی۔ تازہ ترین قسم ڈورم-21 کو حال ہی میں پنجاب سیڈ کونسل نے تجارتی کاشت کے لیے منظور کیا ہے۔
اسی دوران یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد نے چناب پاستا-24 نامی نئی قسم متعارف کروائی ہے جو خاص طور پر پاستا انڈسٹری کے لیے تیار کی گئی ہے۔ یہ قسم نہری اور بارانی دونوں علاقوں میں کاشت کی جا سکتی ہیجس سے یہ مختلف زرعی موسمی حالات کے لیے موزوں ہے۔ڈاکٹر جاوید نے بتایا کہ اگرچہ روایتی طور پر عام گندم سے پاستا اور متعلقہ مصنوعات بنائی جاتی رہی ہیںلیکن بہتر معیار کے باعث ڈورم گندم آہستہ آہستہ اس کی جگہ لے رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملتان میں ایک نجی صنعتی گروپ نے ڈورم گندم پیسنے کا پلانٹ قائم کیا ہے اور مقامی کسانوں سے یہ فصل بہتر قیمت پر خرید رہا ہے۔ تاہم پنجاب میں ڈورم گندم کی کاشت اب بھی محدود ہے کیونکہ اس کی پروسیسنگ کے لیے مخصوص انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ڈاکٹر احمد نے زور دیاکہ اس کی کامیابی کا دارومدار صوبے بھر میں مزید ملنگ یونٹس کے قیام پر ہے۔فلور مل مالکان بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خصوصی ملنگ سہولیات کی عدم موجودگی ڈورم گندم کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عاصم رضا احمد نے ویلتھ پاکستان کو بتایاکہ ہمیں ڈورم گندم کے لیے موجودہ ملنگ نظام میں تبدیلی لانی ہوگی۔ اس وقت پنجاب میں ایک بھی مل اسے پراسیس نہیں کر رہی۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر سویاں، نوڈلز، پاستا اور سپیگٹی بنانے والے اب بھی عام گندم سے بننے والے میدہ اور سوجی پر انحصار کرتے ہیں۔کسان بھی اس فصل کو اپنانے میں مشکلات کی ایک بڑی وجہ مارکیٹنگ کے مسائل کو قرار دیتے ہیں۔پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد محمود کھوکھر نے کہاکہ ملتان کے صنعتی گروپ کے علاوہ زیادہ تر فلور ملز ڈورم گندم نہیں خریدتیں کیونکہ اس کا آٹا روایتی روٹی بنانے کے لیے موزوں نہیں ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ڈورم گندم پر مبنی صنعتوں کو وسعت دینا ضروری ہے تاکہ اس فصل کو دوبارہ فروغ دیا جا سکے، جو تقریبا 60 سال پہلے پنجاب میں وسیع پیمانے پر کاشت ہوتی تھی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک