پنجاب حکومت نے مقامی مویشی نسلوں، بشمول ساہیوال گائے اور نیلی راوی بھینس کے تحفظ اور فروغ کے لیے 20 ارب روپے کے پنجاب ہرڈ ٹرانسفارمیشن ٹو انہانس لائیوسٹاک پروڈکٹیویٹی پروگرام کے تحت ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے۔کل فنڈز میں سے 4 ارب روپے پروجنی ٹیسٹنگ پروگرام کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جو جینیاتی صلاحیت اور نسل کے معیار کو بہتر بنانے کا ایک اہم جزو ہے۔محکمہ لائیوسٹاک پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالق شفیع نے ویلتھ پاکستان کو بتایا، مقامی نسلوں نیلی راوی بھینس، ساہیوال اور چولستانی مویشی کے لیے سیکس سورٹڈ سیمن کی تیاری کے منصوبے جاری ہیں، خاص طور پر ان جانوروں کے لیے جو پی ٹی پی میں رجسٹرڈ ہیں۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی نسلوں کے ساتھ بے قابو کراس بریڈنگ نے مقامی مویشیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس سے جینیاتی خصوصیات غیر متوقع ہو گئی ہیں اور جسمانی معیار متاثر ہوا ہے۔پنجاب میں تقریبا 5 لاکھ ساہیوال گائیں اور 20 سے 25 لاکھ چولستانی مویشی موجود ہیں جبکہ نیلی راوی بھینسوں کی تعداد 1.3 سے 1.5 کروڑ کے درمیان ہے۔ڈاکٹر شفیع کے مطابق یہ پروگرام ساہیوال کیٹل بریڈرز سوسائٹی اور بفالو بریڈرز ایسوسی ایشن کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔
اس میں نسلوں کے تحفظ کے یونٹس کا قیام،پی ٹی پی کی توسیع، بل ڈیم نر بچھڑے کی ماںاسکیم اور 3,000 لیٹر سے زائد دودھ دینے والی جانوروں کی بنیاد پر منظم بریڈنگ اور نر جانوروں کا انتخاب شامل ہے۔یہ منصوبہ مختلف اداروں کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے جن میں پتوکی کا بفالو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، بہادر نگر (اوکاڑہ) کا لائیوسٹاک پروڈکشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، اور جھنگ کا مقامی نسلوں کے تحفظ کا ریسرچ سینٹر شامل ہیں۔تاہم، بریڈرز کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اگرچہ خوش آئند ہے، لیکن کافی تاخیر سے کیا گیا ہے۔ساہیوال کا بریڈرز سوسائٹی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر محمد عمران بشارت نے کہاکہ اگر یہ منصوبہ ایک دہائی پہلے شروع کیا جاتا تو پاکستان اپنی مقامی نسلوں کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا تھا۔انہوں نے نسلوں کی ترقی کے لیے تجارتی فریم ورک کی کمی اور جینیاتی وسائل کے موثر استعمال نہ ہونے پر تنقید کی۔ بل ڈیمز کی درست شناخت نہیں کی گئی، جس سے اعلی نسل کے جانور پیدا نہیں ہو سکے،ڈاکٹر بشارت نے پائیدار ترقی کے لیے کوآپریٹو لائیوسٹاک اور ڈیری فارمنگ ماڈلز کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے معاشی مسائل کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت معطل ہونے کے بعد مویشیوں کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔
اب جانور پالنے کی لاگت ان کی مارکیٹ قیمت سے زیادہ ہو گئی ہے۔ان کے مطابق اب صرف محدود تعداد میں زیادہ دودھ دینے والے جانور باقی رہ گئے ہیں، نیلی راوی بھینس سالانہ تقریبا 4,000 لیٹر اور ساہیوال گائے تقریبا 3,500 لیٹر دودھ دیتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ غیر اخلاقی طریقے، جیسے دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے آر بی ایس ٹی انجیکشن کا استعمال، جانوروں کی زرخیزی اور عمر کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 2009 تک پنجاب میں تقریبا 200 ساہیوال گائیں تھیں جو روزانہ 18 لیٹر تک دودھ دیتی تھیں، اب یہ تعداد 100 سے بھی کم رہ گئی ہے اور یہی صورتحال نیلی راوی بھینسوں کے ساتھ بھی ہے۔دیگر مسائل میں بریڈنگ کے لیے مناسب رجسٹریشن سسٹم کی کمی بھی شامل ہے۔ان تمام چیلنجز کے باوجود، ڈاکٹر بشارت نے زور دیا کہ مقامی نسلیں غیر ملکی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ کم خرچ اور موزوں ہیں کیونکہ پاکستان کے گرم اور نیم گرم موسم میں ان کی دیکھ بھال آسان ہے۔انہوں نے کہاکہ صرف مقامی جانور ہی معیاری دودھ اور ڈیری مصنوعات کی پائیدار پیداوار کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ یہ قدرتی طور پر سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بنگلہ دیش، کینیا اور سری لنکا جیسے ممالک میں ساہیوال نسل کے سیمن اور ایمبریوز کی مضبوط طلب موجود ہے، لیکن پاکستان کے پاس اس طلب کو پورا کرنے کے لیے مناسب نظام موجود نہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک