حکومت نے گزشتہ 10 سالوں مالی سال 2015-16 سے 2025-26 تک کے دوران تمباکو ساز کمپنیوں سے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں مجموعی طور پر 1.342 ٹریلین روپے جمع کیے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ آمدن درآمدی اور مقامی طور پر تیار کردہ تمباکو مصنوعات دونوں سے حاصل ہوئی، جیسا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جمع کروائے گئے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ریٹرنز میں ظاہر کیا گیا ہے۔تمباکو کی صنعت پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے، جبکہ ریٹیل قیمت کی بنیاد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا کثیر سطحی نظام بھی نافذ ہے۔ اس وقت فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح ٹئیر-ون کے لیے 1,000 سگریٹ پر 16,500 روپے اور ٹئیر-ٹو کے لیے 1,000 سگریٹ پر 5,050 روپے ہے، جیسا کہ فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے پہلے شیڈول کے ٹیبل ون کے سیریل نمبر 9 اور 10 میں درج ہے۔مالی سال 2025-26 کے دوران حکومت نے تمباکو ساز کمپنیوں سے اس مد میں 107.944 ارب روپے جمع کیے
جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 225.883 ارب روپے تھی، جو کہ 52.21 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔سب سے زیادہ وصولیاں مالی سال 2023-24 میں 237.144 ارب روپے ریکارڈ کی گئیں۔ اس بلند ترین سطح کے مقابلے میں 2025-26 میں وصولیاں 54.48 ارب روپے کم رہیں۔سال بہ سال وصولیوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:2022-23 میں 142.091 ارب روپے،2021-22 میں 117.321 ارب روپے،2020-21 میں 107.416 ارب روپے،2019-20 میں 89.658 ارب روپے۔اس سے قبل حکومت نے 2018-19 میں 90.867 ارب روپے، 2017-18 میں 67.005 ارب روپے، 2016-17 میں 66.199 ارب روپے، اور 2015-16 میں 90.862 ارب روپے جمع کیے تھے۔سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولیوں میں کمی کی بڑی وجہ بغیر ڈیوٹی ادا کیے جانے والی تمباکو مصنوعات کے بڑھتے ہوئے مارکیٹ شیئر کو قرار دیا جا رہا ہے۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں میں نمایاں اضافہ بعض صورتوں میں 200 فیصد تک کے باوجود آمدن میں کمی آئی کیونکہ صارفین سستی اور غیر ٹیکس شدہ مصنوعات کی طرف منتقل ہو گئے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک