i پاکستان

ایل این جی کی درآمد معطل ، بجلی کی روزانہ 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ متوقعتازترین

April 01, 2026

ایل این جی کی درآمد معطل ہونے کے باعث بجلی کی روزانہ دو سے تین گھنٹے لوڈشیڈنگ ہونے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا ایران اسرائیل جنگ سے قیمتوں میں اضافے کے باعث ہائی اسپیڈ ڈیزل سے بجلی کی پیداواری لاگت 80 روپے فی یونٹ سے تجاوز کرگئی ۔ حکومت نے ڈیزل سے بجلی پیدا نہ کرنے کا فیصلہ متوقع ہے۔ فرنس آئل پر پاور پلانٹس کو صرف پیک آورز میں ہی چلایا جائے گا۔مشرق وسطی جنگ کے باعث قطر سے آر ایل این جی کی سپلائی بند ہونے کے منفی اثرات مرتب ہونے لگے۔ حکومت کو بجلی کی روزانہ 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کرنا پڑ سکتی ہے۔ ذرائع کیمطابق پاور سیکٹر 10سے15فیصد درآمدی ایل این جی استعمال کرتا تھا ۔ اپریل میں پاورپلانٹس کو گیس کی فراہمی کم ہوکر صرف 80 ایم ایم سی ایف ڈی رہ جائے گی ۔ مارچ میں یومیہ 150ایم ایم سی ایف گیس فراہم کی جا رہی تھی ۔ سی این جی سیکٹر کو گیس کی سپلائی مکمل بند اور کھاد کے کارخانوں کو کم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔

دوسری جانب رپورٹ کے مطابق پاورسیکٹرپر بوجھ سمجھی جانیوالی آف گرڈسولرائزیشن اور نیٹ میٹرنگ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے بچا کا سبب بن گئی۔ پاور ڈویژن حکام کے مطابق اس وقت آف گرڈ اور آن گرڈ سولر کا حجم 19ہزار میگاواٹ سیزائد ہے۔ سولر نیٹ میٹرنگ صارفین یومیہ چھ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ یہ سہولت نہ ہوتی تو حکومت کو مہنگے درآمدی فیول والے پلانٹس سے بجلی پیدا کرنا پڑتی جس سے صارفین پر بلوں کا بوجھ بڑھ جاتا ۔ حکام کے مطابق ایران جنگ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافیکے باعث ہائی اسپیڈ ڈیزل سے بجلی کی پیداواری لاگت 80روپے فی یونٹ سے تجاوز کر چکی ۔ اس لئے ڈیزل سے بجلی پیدا نہ کرنے کا فیصلہ متوقع ہے ۔ جبکہ فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹس کو صرف پیک آورز میں استعمال کیا جائے گا۔ ملک میں بجلی کی موجودہ طلب 14 ہزار میگاواٹ اور دن کے اوقات میں 9 ہزار میگاواٹ سے بھی کم ہے ۔ تاہم گرمیوں میں بجلی کی طلب 27 سے 28 ہزار میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی