تحریر: آصفہ زہرہ
کبھی سمندر کو صرف مچھلی، نمک اور معدنیات کا خزانہ سمجھا جاتا تھا — لیکن 1990 کی دہائی میں ایک نیا نظریہ سامنے آیا۔۔بلو اکانومی۔ یعنی، سمندر نہ صرف وسائل کا ذریعہ ہیں بلکہ ہمارے ماحول، معیشت اور روزگار کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بھی ہیں۔ اس سوچ نے اسوقت
زور پکڑا جب سال 2010 میں گنٹر پاولی کی کتاب
The Blue Economy: 10 Years, 100 Innovations, 100 Million Jobs
شائع ہوئی۔ "اس کتاب نے بلیو اکانومی کے تصور کو عالمی سطح پر مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔" اس کتاب نے دنیا کو بتایا کہ سمندر، ساحل اور بحری حدود صرف قدرتی خوبصورتی نہیں بلکہ معاشی ترقی، نوکریوں اور ماحولیات کے تحفظ کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ اور پھر 2012 میں ورلڈ بینک کی رپورٹ دی بلیو اکانومی نے اس پر مہر لگا دی کے اگر سمندری وسائل کو ذمہ داری سے استعمال کیا جائے تو یہ ترقی کا پائیدار راستہ بن سکتے ہیں۔ یعنی بلیو اکانومی پاکستان کے لیے سنہری موقع ہے جو پاکستان کی معاشی مسقبل کی کہانی بدل سکتا ہے۔ بلیو اکانومی آج کے دور کا جدید اور انقلابی معاشی ماڈل ہے، جس میں ترقی کا محور زمین نہیں بلکہ سمندر ہے۔ اس ماڈل میں سمندری وسائل جیسے مچھلیاں، سی فوڈ، شپنگ، ساحلی سیاحت، ہوٹلز، ایکوا کلچر، ونڈ اور سولر انرجی، زیرِ آب معدنیات، قیمتی پتھر، اور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے ڈی سیلی نیشن پلانٹس شامل ہیں جسکی روشن مثال متحدہ عرب امارت ہے جس نے کھارے پانی کو میٹھا بنا کر یو اے ای کی قسمت اور نقشہ دونوں بدل دئیے ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ زمین کا صرف انتیس فیصد حصہ خشکی پر ہے لیکن دنیا کی معیشت کا زیادہ تر بوجھ یہئ زمینی وسائل اٹھا رہے ہیں۔ جبکہ 71 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے، مگر اس کی معاشی صلاحیت سے دنیا ابھی تک مکمل طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکی۔
لیکن دنیا اب جاگ گئی ہے۔ چین، جاپان، کوریا، انڈونیشیا اور ویتنام جیسے ایشیائی ممالک نے آبی فارمنگ، شپنگ، اور جہاز سازی کو ترقی کا ذریعہ بنا لیا ہ ناروے نے اپنی معیشت کو فِشریز اور میرین انرجی سے جوڑ لیا، نیدرلینڈز نے پورٹس اور میری ٹائم لاجسٹکس میں دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ امریکہ نہ صرف فِشریز بلکہ آف شور آئل اینڈ گیس میں بھی طاقتور بن چکا ہے۔ فجی اور سیشلز جیسے چھوٹے جزائر بھی ساحلی سیاحت اور پائیدار ماہی گیری سے کمائی کے نئے دروازے کھول چکے ہیں۔ اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی آسٹریلیا اپنی سیاحت اور سمندری کھیلوں سے اربوں ڈالر کما رہا ہے اور جاپان میرین ٹیکنالوجی اور سی فوڈ ایکسپورٹ سے۔ جنوبی کوریا شپ بلڈنگ میں عالمی لیڈر بن چکا ہے۔ یعنی جن ممالک نے پہلے صرف زمین پر انحصار کیا تھا، اب وہ سمندر کو ترقی کی نئی معیشت بنانے میں مصروف ہیں۔ اور سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا 1,046 کلومیٹر طویل ساحلی علاقہ ہماری معیشت کے لیے نئی زندگی کی نوید بن سکتا ہے؟ پاکستان کے جنوب میں پھیلا 1046 کلومیٹر طویل ساحل جو سندھ سے لیکرمکران آف شور تک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔
یہاں مچھلی، جھینگے، لوبسٹر، تیل، گیس، قیمتی معدنیات، اور یہاں تک کہ نمکین پانی کو میٹھا بنانے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ پاکستان کی 75فیصد تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے لیکن ہماری میری ٹائم آمدنی محض 450 ملین ڈالر سالانہ ہے یعنی پاکستان کا بلیو اکانومی میں کل جی ڈی پی کا صرف
0.34 ۔فیصد حصہ ہے اسکے مقابلے میں بنگلادیش 3٫20 فیصد بھارت 4٫10 فیصد اور ویتنام جیسا چھوٹا سے ملک 18٫80 فیصد اس سے کما رہے ہیں.
کیوں؟ کیونکہ پاکستان نے اپنی بندرگاہوں، فش ہاربرز، اور سی فوڈ پروسیسنگ کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا ہی نہیں، یہی وقت ہے کہ پاکستان اپنے پانچ ساحلی زونز گوادر، لسبیلہ، کراچی، ٹھٹھہ، بدین کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کرے۔
نئی بندرگاہیں قائم کرے، فِش ہاربرز اور سی فوڈ انڈسٹری کو یورپی معیار پر لے جائیں، ساحلی سیاحت، ماہی گیری، اور آف شور انرجی میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی، اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سائنسی تحقیق اور مقامی افراد کو تربیت دے کر لاکھوں روزگار کے دروازے کھولے۔
کیونکہ بلیو اکانومی صرف معیشت نہیں، ایک نیا مستقبل ہے اور گوادر پورٹ پاکستان کے لیے اہم معاشی امکانات رکھتی ہے۔ یہ صرف ایک بندرگاہ نہیں بلکہ پاکستان اور چین کی مشترکہ اقتصادی تقدیر کا مرکز ہے۔ پبلک لائبریری آف سائنس ون نامی بین الاقوامی جریدے کی جولائی 2023 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور چین-یورپ اور چین-مشرق وسطیٰ تجارتی راستوں کے انتخاب پر نمایاں اثر ڈالے گا۔ تحقیق کے مطابق سفر کا وقت دس سے بیس دن تک کم ہوگا، فاصلہ تین ہزار سے دس ہزار کلومیٹر تک کم ہوگا، جبکہ چین کے سنکیانگ صوبے کے تاجر مشرق وسطیٰ اور یورپ سے تجارت میں تقریباً دو ہزار ڈالر فی کنٹینر بچا سکیں گے۔۔ یہ صرف چین کے لیے فائدہ نہیں — بلکہ پاکستان کو بھی سویز کینال کی طرح ٹرانزٹ فیس کے ذریعے معاشی فوائد حاصل ہوں گے جو خطے میں اقتصادی ترقی کا نیا باب کھولیں گے! لیکن شرط یہ ہے کہ پاکستان گوادر، پورٹ قاسم اور کراچی بندرگاہوں کو جدید اے آئی سسٹمز، اسمارٹ لاجسٹکس، ڈیجیٹل پورٹ مینجمنٹ، اور عالمی معیار کے فش ہاربرز سے لیس کرے۔
دنیا کی بلیو اکانومی اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کے برابر ہے۔ او ای سی ڈی کی رپورٹ دی اوشن اکانومی ،2025 کے مطابق، 1995 میں اس کا حجم3۔1 ٹریلین ڈالر تھا جو 2020 میں بڑھ کر6۔2 ٹریلین ڈالر ہوگیا۔ یعنی صرف 25 برس میں اس کی مالیت تقریباً دگنی ہوئی اور یہ عالمی معیشت کا 3 تا 4 فیصد حصہ بنتی ہے۔ پاکستان کے پاس گہرا سمندر ہے اب اس سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ پاکستانی سی فوڈ برآمدات کو یورپی منڈیوں میں معیار اور سرٹیفکیشن کے مسائل کا سامنا رہا ہے کیونکہ پاکستان کی فش پروسیسنگ عالمی معیار کی نہیں۔ پاکستان کو فشنگ ٹریلرز کو جدید بنانا ہوگا، ہاربرز میں صفائی اور معیار لانا ہوگا، اور سی فوڈ ایکسپورٹ کو چین، جاپان، ملائیشیا کے بعد یورپ تک دوبارہ کھولنا ہوگا۔ اسی طرح، اگر پاکستان میرین ٹورزم جیسے ہاربر کروز،اسکوبا ڈائیونگ، اسنورکلنگ، سی کایاکنگ، ونڈ سرفنگ اور بیچ ریزورٹس میں سرمایہ کاری کرے ، تو صرف سیاحت سے سالانہ اربوں ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔
ضرورت ہے سخت فیصلوں، واضح پالیسیوں اور فوری عملدرآمد کی۔ غیر قانونی ماہی گیری اب مزید نظر انداز نہیں ہو سکتی۔ کراچی کے ساحل پر پلاسٹک کی آلودگی سمندری زندگی کو تباہ کر رہی ہے، اور اگر ابھی نہ رُکا گیا، تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔
نیشنل میرین پالیسی 2002 موجود ضرور ہے، مگر اس پر عمل نہ ہونے کی قیمت پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کی صورت میں چُکا رہاہے جبکہ نیشنل میرین پالیسی 2025 اب تک ریویو کے مراحل میں ہے، تاکہ اسے وژن 2035کے اہداف اور موجودہ تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔
اگر پاکستان اپنی سمندری دولت کو دانشمندی، سائنسی منصوبہ بندی اور مؤثر پالیسیوں کے ذریعے بروئے کار لائے، تو بلیو اکانومی نہ صرف معیشت کو نئی سمت دے سکتی ہے بلکہ لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے اور اربوں ڈالر کی معاشی سرگرمی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ وزارتِ بحری امور کے مطابق اس شعبے میں سالانہ 100 بلین ڈالر سے زائد معاشی صلاحیت موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے یا اسے بھی ماضی کے ضائع شدہ امکانات کی فہرست میں شامل کر دیں گے؟
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی