i پاکستان

حکومت بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہ ڈالے،آئی ایم ایفتازترین

February 14, 2026

عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیوں پر بات چیت کر رہا ہے، تاہم ان تبدیلیوں کا بوجھ متوسط یا کم آمدنی والے افراد پر نہیں پڑنا چاہئے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ جاری بات چیت میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا نرخوں میں مجوزہ تبدیلیاں وعدوں سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں اور میکرو اکنامک استحکام، بشمول مہنگائی، پر ان کے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جائے گا۔پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جن کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا جب کہ صنعت پر دبا ئوکم ہو گا، کیونکہ حکومت سات ارب ڈالر کی توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف ) کے تحت شرائط کو پورا کرنا چاہتی ہے جب کہ آئی ایم ایف کا ایک اور جائزہ قریب آ رہا ہے۔توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی آئی ایم ایف کا ایک طویل مدتی قرضہ پروگرام ہے، جو ممالک کو گہری معاشی کمزوریوں اور درمیانی مدت کی ادائیگیوں کے توازن کے مسائل حل کرنے میں مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں بجلی کی نمایاں اہمیت ہے، جس کی وجہ سے نرخوں میں ردوبدل اس وقت انتہائی حساس ہو جاتا ہے جب مہنگائی ایک اہم سیاسی اور معاشی دبائو کا نکتہ بنی ہوئی ہے، اگرچہ مہنگائی کی شرح 2023 میں اپنی تقریبا 40 فیصد کی بلند ترین سطح سے کافی کم ہے۔پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے جو ادا نہ کیے گئے بلز اور سبسڈی کا ایک سلسلہ ہے جو پیداواری کمپنیوں، تقسیم کاروں اور حکومت کے درمیان جمع ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے 2023 سے آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات کے تحت بار بار نرخوں میں اضافہ کیا گیا۔ آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ وصولیوں اور نقصان کی روک تھام پر بہتر کارکردگی کی مدد سے پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں اضافے کو پروگرام کے اہداف کے اندر رکھا گیا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی