i پاکستان

خیبرپختونخوا کے شہری ترقیاتی ادروں میں مالی بے قاعدگیوں کا انکشافتازترین

January 12, 2026

خیبر پختونخوا کے محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کے مختلف شہری ترقیاتی اداروں میں میں 3 ارب 66 کروڑ روپے کی مبینہ بے قاعدگیاں کا انکشاف ہوا ہے۔آڈٹ رپورٹ مالی سال 2023-24 میں انکشاف ہواکہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ایک ہزار 824 کنٹریکٹ ملازمین کو قواعد کے بغیرمستقل کیاگیا اورانہیں 77کروڑ 69 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں ۔پی ڈی اے کی غیر قانونی ہائوسنگ سوسائوئٹی سے56 کروڑ 25 لاکھ روپے جر مانوں کی عدم وصولی کی گئی،مردان میں بیوٹیفیکشن کیلئے 58 کروڑ 26 لاکھ روپے کے ٹھیکہ دینے میں بے قاعدگی کی گئی،حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے سامنے پلاٹ الاٹمنٹ میں تاخیرسے32کروڑسیزائد کا نقصان پہنچایا گیا۔رپورٹ کے مطابق پی ڈی اے انفراسٹکچرکوپہنچنے والے 36 کروڑ روپے کے نقصانات کی رقم وصول کرنے میں ناکام رہا،ٹھکیہ داروں کی جانب سے جعلی گارنٹی جمع کرنے پر53 کروڑ 54 لاکھ روپے جرمانے کی عدم وصولی کی گئی۔

نادرن بائی پاس بس ٹرمینل کے کنسلٹنٹ کی تقرری میں بے قاعدگی اور 11کروڑ 40 لاکھ روپے کی غیر مجاذ ادائیگی کی گئی،جبکہ حیات آباد میں نجی ہسپتال کو پلاٹ کی غیر قانونی الائٹمنٹ اور 16 کروڑ 25 لاکھ روپے کی عدم وصولی کی گئی،سڑک کی تعمیر کے لئے 4 کروڑ 37 لاکھ روپے کی زائد ادائیگی کی گئی۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق سیف سٹی سیکیورٹی کی گاڑیوں کے غیر مجاذ استعمال کرکے خزانے کو 20 کروڑ روپے کا نقصان ہوا،کانیزہ اور ڈاگ کے علاقے میں گلیوں کی تعمیرکے 7 کروڑ 62 لاکھ کا ٹھیکہ قواعد کے بغیر جاری کیا گیا،پی ڈی اے نے ایل ای ڈی لائٹس کی خریداری میں کنٹریکٹر کو 2 کروڑ 54 لاکھ کی زائد ادائیگی کی گئی۔تاتارا فن لینڈ کی تاخیر سے نیلامی کے باعث خزانے کو 6 کروڑ 67 لاکھ کا نقصان پہنچایا گیا،بے قاعدگیوں کے حوالے سے کوئی محکانہ کارروائی ہوئی نہ اس کا ریکارڈ پیش کرسکی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی