کراچی میںڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے گلشن معمار میں کارروائی کرتے ہوئے پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث اور سندھ پولیس کو مطلوب ملزم اظہر علی عرف اظہرو کو گرفتار کرلیا۔ایس ایس پی ویسٹ طارق الہی مستوئی کے مطابق ملزم نے 27 اکتوبر کو ساتھیوں کے ہمراہ لاڑکانہ کے علاقے بقا پور پولیس چوکی پر اپنے ساتھی کو چھڑوانے کیلئے حملہ کیا تھا۔ حملے کے دوران چوکی انچارج مشتاق احمد تنیو کو فائرنگ کرکے شہید کیا گیا جبکہ ملزمان اپنے مطلوب ساتھی کامران عرف صدام کو چھڑوا کر فرار ہوگئے تھے۔پولیس کے مطابق واقعہ کا مقدمہ تھانہ دڑی سٹی لاڑکانہ میں درج ہے جس میں گرفتار ملزم نامزد اور اشتہاری تھا۔ ملزم حالیہ واردات میں گلشن معمار کے علاقے ہندو گوٹھ میں شہری شاہ ایران کو لوٹ کر فرار ہورہا تھا کہ پولیس نے تعاقب کے بعد اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے قبضے سے اسلحہ بمعہ ایمونیشن، چھینے گئے تین موبائل فون، دو وولٹ اور نقدی رقم برآمد کرلی گئی۔ دورانِ تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ اس کا گینگ دس افراد پر مشتمل ہے جو قتل، اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہے۔ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق ملزم نے چوکی انچارج مشتاق احمد تنیو کو ساتھیوں کے ہمراہ گولیاں مار کر شہید کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ گرفتار ملزم کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔پولیس کے مطابق ملزم اس سے قبل 2020 اور 2021 میں بھی تھانہ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا سے گرفتار ہوکر جیل جاچکا ہے۔
دوسری جانب سرجانی ٹائو ن کے علاقے لیاری 36 ٹنکی اسٹاپ کے قریب شہری کی فائرنگ سے مبینہ ڈاکو ہلاک ہوگیا جبکہ اس کے 2ساتھی موقع پر سے فائرنگ کرتے ہوئے فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق سرجانی ٹاون کے علاقے لیاری 36 ٹنکی اسٹاپ کے قریب شہری کی فائرنگ سے مبینہ ڈاکو ہلاک ہوگیا جبکہ اس کے 2ساتھی موقع پر سے فائرنگ کرتے ہوئے فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پرپہنچ گئی اورپولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے فوری طورپرکرائم سین یونٹ کوطلب کرلیا۔پولیس نے جائے وقوع سے ایک خالی میگرین، 2 زندہ راونڈ اور متعدد چلیدہ گولیوں کیخول اپنے قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔ایس ایچ او سرجانی ٹاون سہیل خاصخیلی کے مطابق ہلاک مبینہ ڈاکو اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ ہارڈ ویئر کی دکان پر ڈکیتی کرنے آیا تھا جہاں مزاحمت ہوئی اوراس دوران کسی نامعلوم شہری یا نامعلوم پولیس اہلکار کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس سے ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا جبکہ اس کے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ایس ایچ او نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے مبینہ ڈاکو کی تاحال کوئی شناخت ممکن نہیں ہوسکی ہے، پولیس نے موقع پرسے فرارہونے والے ہلاک ملزم کے ساتھیوں کی تلاش شروع کردی ہے جبکہ مبینہ ڈاکو کس کی فائرنگ سے ہوا اس کی بھی معلومات اکٹھا کی جارہی ہے۔پولیس نے ہلاک مبینہ ڈاکو کی لاش قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کرکے واقعے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی