i پاکستان

مجھ پر جو الزامات لگے ان پردکھ ہے، شوکت یوسفزئی الزامات پر آبدیدہ ہو گئےتازترین

September 30, 2026

پی ٹی آ ئی رہنما شوکت یوسفزئی اپنے اوپر لگنے والے الزامات پر آبدیدہ ہو گئے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے میرے خط سے متعلق جو کہا برا لگا،ان سے ایسی بات کی توقع نہیں تھی۔سہیل آفریدی مجھ سے بہت جونیئر ہے، میں 1996 سے پارٹی کیساتھ ہوں،آج تک پارٹی کو کبھی چھوڑا نہیں۔9 مئی کے بعد تکالیف برداشت کیں، جن لوگوں نے 9 مئی کے بعد بھی پارٹی نہیں چھوڑی ان پر شک کرنا عجیب سے لگتا ہے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مجھ پر جو الزامات لگے ان پردکھ ہے،میں آج بھی پی ٹی آئی کی ہی بات کرتا ہوں،4اکتوبر لانگ مارچ کی بات ہوئی تومیں نے خط لکھا اور تجویز دی کہ اسے موخر کر دیا جائے۔میں پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہوں، اب لانگ مارچ کا اعلان ہوچکا ہے تو میں سہیل آفریدی سے پہلے پہنچوں گا۔سابق صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ میں تو عمران خان کے سامنے بھی حق کی بات کرتا تھا، ان کے سامنے جہانگیر ترین سے بھی لڑائی ہوئی تھی، میں نے سہیل آفریدی کا دفاع کیا کہ وہ دہشت گردوں کے سہولت کارنہیں، میں نے کہا ان کی حکومت ٹھیک چل رہی ہے، یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس اچھا کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 26 نومبر احتجاج کے دوران بھی اس قسم کے خدشات کا اظہار کیا تھا، میں ہمیشہ اصول کی بات کرتا ہوں ، مجھے کسی کا ڈر اور خوف نہیں۔شوکت یوسفزئی انٹرویوکے دوران آبدیدہ ہو گئے اور کہا سہیل آفریدی نے میرے خط سے متعلق جو کہا برا لگا، ان سے ایسی بات کی توقع نہیں تھی،انہوں نے واضح کیا کہ میں نے خط میں اپنے ورکرز کو تحفظ دینے کی بات کی تھی۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ میرا نام سیاسی کمیٹی میں شامل نہیں ہے،عمران خان کو ریلیف کیلئے ہم مذاکرات سے بھی راستہ بنا سکتے ہیں، کبھی کفن لیکر جانے کی بات تو کبھی مرمٹنے کے نعرے یہ سیاست نہیں ہے۔شوکت یوسفزئی نے دعوی کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر پر بھی دبائو ہے، باہر بیٹھ کر ہمارے خلاف پارٹی سے جفا کی باتیں ہو رہی ہیں، باہربیٹھ کریویٹوب پرفضول باتیں کرنے والوں نے عمران خان اور پارٹی کو بھی نقصان پہنچایا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی