i پاکستان

پابندی کے باوجود پاکستان میں قابلِ استعمال سرنجز کی فروخت کا انکشافتازترین

April 29, 2026

پابندی کے باوجود پاکستان میں قابلِ استعمال سرنجز کی فروخت جاری رہنے کا انکشاف ہوا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جعلی آٹوڈس ایبل سرنجز بھی مارکیٹ میں موجود جن کا ایک سے زائد بار استعمال ممکن ہے، پیکنگ پر آٹو ڈس ایبل لکھ کر دوبارہ قابل استعمال سرنجز فروخت کی جا رہی ہیں۔پشاور، ملتان، جیکب آباد سمیت مختلف شہروں سے دوبارہ قابل استعمال سرنجز حاصل کی گئی ہیں۔خیبر پختونخوا کے گدون امازئی انڈسٹریل زون میں زیادہ تر قابل استعمال سرنجز کی تیاری اور ترسیل کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق اتائی 50 اور 100 روپے میں انجکشن لگانے کے لیے ایک ہی سرنج بار بار استعمال کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق جعلی سیفٹی سرنجز کا استعمال بھی انفیکشن کنٹرول نظام کو غیر مثر بنا رہا ہے جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ ) کا کہنا ہے کہ پابندی کے باوجود سرنجز کی فروخت پر ایکشن لیں گے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی