وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی معاشی دبا ئو کے باوجود مستحکم ہے، حکومت مہنگائی کے دبائو کو کم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کر رہی ہے، رننس کی بہتری اور کرپشن کا خاتمہ آئی ایم ایف کا نہیں بلکہ حکومت پاکستان کا مشن ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے واشنگٹن میں چین کے ٹی وی کو انٹرویو اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یا ۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ، زراعت اور کم آمدنی والے طبقے کیلئے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت عالمی دبائو کے باوجود اس وقت مستحکم ہے، ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ کرنٹ اکائو نٹ سرپلس بھی حاصل ہوا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران معاشی شرح نمو تقریبا 4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔محمد اورنگزیب نے خبردار کیا کہ اگر عالمی کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو مہنگائی، برآمدات اور مجموعی معاشی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دے رہا ہے جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں صنعتی اور زرعی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے گورننس سسٹم اور بدعنوانی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور آئی ایم ایف نے سیاستدانوں اور اعلی حکام کی مالی تفصیلات طلب کی ہیں۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا بدعنوانی آئی ایم ایف پروگرام پر اثرانداز ہو گی؟ تو وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ کرپشن اور بیڈگورننس کے خاتمے کے لیے ایکشن پلان جاری کر دیا گیا ہے گورننس کے نظام میں بہتری کے لیے متعدد کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ وزارت خزانہ کی جانب سے وفاقی اسپتالوں کے فنڈز میں کروڑوں روپے کی کٹوتی پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کے فنڈز کم کرنے سے متعلق مجھے کوئی معلومات نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ توانائی بحران پر سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے استعمال پر وزارت توانائی سوچ بچار کرے گی۔ دریں اثنا وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے سینئر نائب صدر شوہی ہارا اور ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) کی صدر سے اہم ملاقاتیں کیں۔وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ملاقاتوں میں ترقیاتی تعاون، انفراسٹرکچر فنانسنگ اور باہمی شراکت داری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وزیرِ خزانہ نے جائیکا کی جانب سے پاکستان کے ساتھ قرضہ جاتی سرگرمیوں کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے فیصل آباد کے پانی کی فراہمی کے منصوبے کو قرضہ پروگرام کے تحت پہلے منصوبے کے طور پر شامل کرنے کو سراہا۔
انہوں نے بتایا کہ گرانٹس پروگرام میں بھی مثبت پیش رفت جاری ہے جبکہ ماضی کی رکاوٹوں کو بڑی حد تک دور کر لیا گیا ہے۔محمد اورنگزیب نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ جائیکا سے پاکستان کو خالص ادائیگیاں اب بھی منفی ہیں جسے فعال قرضہ جاتی سرگرمیوں کی بحالی کے ذریعے مثبت بنانے پر دونوں فریقین نے اتفاق کیا۔ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی صدر سے ملاقات میں وزیرِ خزانہ نے انفرااسٹرکچر فنانسنگ کے فروغ پر زور دیا اور اِنہیں عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی۔انہوں نے کہا کہ 4 سال بعد یورو بانڈ کا اجرا پاکستان کی معاشی بہتری پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے جبکہ پہلے پانڈا بانڈ کا اجرا ایک اہم سنگ میل ہے۔وزیرِ خزانہ نے اس موقع پر کہا کہ وزیرِاعظم کی ہدایت پر منصوبوں میں تاخیر ختم کرنے کے لیے 4 خصوصی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو زمین کے حصول، فنڈز کی فراہمی اور خریداری کے نظام کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہیں۔محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے اور رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی