i پاکستان

پاکستان کی نیت اچھی ہے، مذاکرات کی امریکی، اسرائیلی باتیں قابل اعتبار نہیں،ترجمان ایرانی وزارت خارجہتازترین

March 27, 2026

ایران نے کہاہے کہ پاکستان ہمارا پڑوسی ہے، ہمارے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی نیت اچھی ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارے وزیر خارجہ پڑوسی ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں، پڑوسی ممالک بشمول پاکستان کے وزرائے خارجہ سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقاتیں ہوئیں، خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے پڑوسی ممالک کی نیک نیتی کو سمجھتے ہیں، علاقائی ریاستیں اور پڑوسی ممالک اس صورتحال کے نتائج پر تشویش رکھتے ہیں، ہر کوئی کسی نہ کسی طرح حالات کو بہتر بنا نے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش کی، خطے اور باہرکے کئی ممالک نے ایران سے رابطہ کیا ہے، ان ممالک نے ایران و امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر نے کی پیشکش کی ہے، ہمیں اس نوعیت کے مذاکرات سے متعلق درخواستیں ملیں اور ہم نے ان کا جواب دیا، ہمارا موقف واضح ہیکہ ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے، ایران کے ساتھ مذاکرات کی امریکی اور اسرائیلی باتیں قابل اعتبار نہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جارحیت کے بعد اب کوئی بھی امریکی سفارتکاری پر اعتماد نہیں کرسکتا، ہم نے گزشتہ روز واضح کردیا تھا ایران اور امریکا کے درمیان کوئی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہو رہے، ہمیں امریکی سفارتکاری کا نہایت تباہ کن تجربہ ہوا ہے، ہم پر 9 ماہ کے عرصے میں دو مرتبہ مذاکرات کے دوران حملہ کیا گیا، حملہ اس وقت ہوا جب ہم جوہری مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کے عمل کے درمیان تھے، مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ سفارتکاری سے غداری تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 دنوں کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا، ایرانی مسلح افواج ملک کی علاقائی سالمیت کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہیں، ایران آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے لیے فیس وصولی جاری رکھیگا، ایران پر مسلط کردہ جنگی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے متعدد اقدامات نافذ ہیں، آبنائے ہرمز یا مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کی شرائط کے متعلق ایران کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جو ممالک اس جارحیت میں شامل نہیں ہیں وہ ایرانی حکام کے ساتھ ضروری رابطہ اور ہم آہنگی کے بعد اپنی جہاز رانی جاری رکھ سکتے ہیں تاکہ محفوظ راستہ یقینی بنایا جاسکے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس بات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا ایران واقعی پہلے سے اس راستے پر ٹول وصول کر رہا ہے یا نہیں۔گزشتہ ہفتے ایرانی پارلیمنٹ نے یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر غور کرے گی۔ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ بعض دوست ممالک کے ذریعے امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کی درخواست کی گئی، دوست ممالک کے ذریعے امریکی درخواست پر ایران نے اپنے اصولوں کے مطابق مناسب جواب دیا ہے، ان جوابات میں ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے پرکسی بھی حملے کے سنگین نتائج سے متعلق ضروری انتباہ بھی دیا گیا، یہ واضح کیا گیا ایسی کسی صورتحال میں ایرانی مسلح افواج فوری، فیصلہ کن اور مثر جواب دے گی، ایران نے مغربی ایشیا میں امریکی مفادات اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی ٹھکانوں پر جوابی حملے کیے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی