پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں پہلی بار 100فیصد مقامی پرزوں سے میڈ ان پاکستان کار کی تیاری کا عمل شروع کردیا گیا ہے جس الیکٹرک گاڑی ہوگی اور اس کی قیمت دیگر کے مقابلے میں انتہائی کم ہوگی۔یہ بات ا نجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے سی ای او حماد منصور نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے بتایا کہ میڈ ان پاکستان ای وی گاڑی رواں سال جون یا جولائی تک متعارف کرادی جائے گی۔ مقامی آٹوموٹیو مینوفیکچررز کی حوصلہ افزائی اور لوکلائزیشن کے فروغ کے لیے حکومت رواں سال کے وفاقی بجٹ میں گاڑیوں پر عائد ٹیکسوں میں کمی کررہی ہے۔حماد منصور کے مطابق میڈ ان پاکستان ای وی گاڑی کا پلانٹ پہلی بار لاہور میں قائم کیا جائے گا، میڈ ان پاکستان ای وی گاڑی کی قیمت دس لاکھ روپے سے کم ہوگی جس سے موٹر سائیکل سے کار کی جانب منتقل ہونے والے صارفین آسانی کے ساتھ منتقل ہوسکیں گے۔حماد منصور کے مطابق 100فیصد مقامی پرزوں سے تیار ہونے والی ای وی گاڑی ایک چارجنگ پر 180 تا 200کلومیٹر مسافت طے کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوگی۔ مقامی آٹو موٹیو پالیسی کے تحت وزیراعظم کی جانب سے لوکل آٹو مینوفیکچرز کو بھرپور سپورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
میڈ ان پاکستان گاڑیوں کی 100فیصد لوکلائزیشن کرکے مستقبل میں انہیں سستی لاگت پر برآمد کرنے کا منصوبہ بھی بنالیا گیا ہے۔سی ای او، ای ڈی بی کے مطابق پاکستان میں بڑی آٹو کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہوگئی ہے جسکا اندازہ انکی تیار شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے رحجان سے لگایا جاسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی دو سے تین کمپنیاں میڈ ان پاکستان گاڑیاں بنانا چاہتی ہیں، وزیر اعظم نے الیکٹرک موٹر سائیکل کی قیمتوں میں بھی واضح کمی کرکے برآمد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ایک سوال کے جواب میں حماد منصور نے بتایا کہ مقامی سطح پر لیتھئیم بیٹریاں تیار کرنے کی 4صنعتیں قائم کی جارہی ہیں جس میں سے پہلی فیکٹری مئی 2026 میں اپنی تیار کردہ لیتھئیم بیٹری متعارف کرادے گی۔انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں میں تین اہم چیزیں لیتھیم بیٹری، چارجر اور کنٹرولر ہوتا ہے جو پاکستان میں تیار کیا جارہا ہے، اس کے علاوہ گاڑی ایک بار چارج میں 180 سے 200 کلومیٹر کا سفر طے کرسکے گی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی