وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی موجودگی میں سعودی ڈیپازٹ کی مدت میں توسیع کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سعودی ڈیپازٹ کی مدت میں توسیع کے حوالے سے معاہدے کی تقریب امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہوئی، جس میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے شرکت کی۔ جب کہ امریکا میں پاکستان کے سفیر بھی موجود تھے۔ جاری اعلامیہ کے مطابق یہ معاہدہ سعودی فنڈ برائے ترقی (ایس ڈی ایف)اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیان طے پایا، جس کے تحت اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے سعودی ڈیپازٹ کی مدت میں توسیع کی گئی۔معاہدے پر سعودی فنڈ برائے ترقی کی جانب سے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان بن عبدالرحمن المرشد اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے گورنر جمیل احمد نے دستخط کیے۔یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اور دیرینہ اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے پاکستان کے بیرونی مالی استحکام کو مزید تقویت ملے گی۔دریں اثنا وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر چین کے وزیر خزانہ لان فوآن اور پیپلز بینک آف چائنا کے گورنرز سے ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں چین اور پاکستان کے درمیان مالی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق اور دونوں ممالک میں سرمایہ کاری اور اقتصادی روابط کو فروغ دینے کا عزم کیا گیا۔ اس وزیر خزانہ نے پاکستان کے لیے چین کی دیرینہ اور مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا، اور آئی ایم ایف میں چین کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔وفاقی وزیر خزانہ و سینیٹر اورنگزیب نے اپنے چینی ہم منصب کو پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی(آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، جس کی منظوری مئی کے آغاز میں متوقع ہے۔وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ پاکستان نے 1.4 ارب ڈالر کا یورو بانڈ ادا کر دیا ہے اور سعودی عرب سے نمایاں اضافی مالی معاونت بھی حاصل کی ہے، جس سے بیرونی مالی پوزیشن مضبوط ہوگی۔
انہوں نے پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا، جو مالی وسائل کو متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کا بڑا حصہ اب رینمنبی (آر ایم بی )میں طے ہو رہا ہے، جس کے باعث بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے کرنسی سوآپ سہولت میں اضافہ ضروری ہے۔وزیر خزانہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنے پر چینی وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او )ڈیولپمنٹ بینک کے قیام کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان ستمبر میں ایس سی او کی صدارت سنبھالنے جا رہا ہے۔ملاقات کے اختتام پر وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں چین کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کی مسلسل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی