i آئی این پی ویلتھ پی کے

چین کا اے آئی تعلیم منصوبہ: پاکستان کی افرادی قوت کی تبدیلی کے لیے اہم رہنمائی،ویلتھ پاکستانBreaking

June 04, 2026

چین کا اے آئی پلس ایجوکیشن ایکشن پلان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے جس کے تحت تعلیم کے تمام مراحل میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کا جامع نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ماڈل پاکستان کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہیجہاں قومی مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 کے نفاذ کا آغاز ہو چکا ہے۔چینی منصوبے کے مطابق 2030 تک ایک ایسا مربوط نظام قائم کیا جائے گا جس میں ابتدائی تعلیم سے اعلی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت تک اے آئی خواندگی کو شامل کیا جائے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کا تعلیمی نظام تقریبا 28 کروڑ طلبہ اور 4 لاکھ 40 ہزار سے زائد اسکولوں پر مشتمل ہے۔بیجنگ میں پہلے ہی نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے جہاں ہر طالب علم سالانہ کم از کم آٹھ گھنٹے اے آئی تعلیم حاصل کرتا ہے جبکہ 87 فیصد سے زائد اسکولوں میں اے آئی نظام نافذ کیا جا چکا ہے۔اس منصوبے میں اساتذہ کی تربیت، قومی سطح کے ذہین تعلیمی پلیٹ فارم اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو بھی شامل کیا گیا ہے۔پاکستان میں یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قومی اے آئی پالیسی 2025 کے تحت ہر سال 2 لاکھ افراد کو تربیت دینے، 2027 تک 10 ہزار ٹرینرز تیار کرنے اور 20 ہزار انٹرن شپ فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم ملک میں اس وقت 10 فیصد سے بھی کم افرادی قوت اے آئی مہارت رکھتی ہے۔عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ کے مطابق 2030 تک 39 فیصد بنیادی پیشہ ورانہ مہارتیں تبدیل ہو جائیں گی جس سے اے آئی تعلیم کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

تعلیمی ماہر صفا شعیب کے مطابق تعلیمی اداروں میں اے آئی کا استعمال پہلے ہی شروع ہو چکا ہے، جہاں اساتذہ تدریسی مواد تیار کرنے اور طلبہ اسائنمنٹس مکمل کرنے کے لیے اے آئی پر انحصار کر رہے ہیں جس سے ایک نیا تعلیمی ماحول تشکیل پا رہا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو نظام خودکار مشینوں کے درمیان تعامل کی شکل اختیار کر سکتا ہے، اس لیے بنیادی سطح پر اے آئی تعلیم کو لازمی بنانا ضروری ہے۔ان کے مطابق پاکستان میں امتحانی نظام اور جدید تدریسی حقیقتوں کے درمیان خلا موجود ہے جبکہ موبائل فون کی زیادہ رسائی تعلیمی بہتری کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔پنجاب ایجوکیشن اتھارٹی کے ماہر کِتھ کمار کے مطابق چین کا ماڈل اس بات کی مثال ہے کہ تعلیم کو مستقبل کی ملازمتوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے اور پاکستان کو اب تاخیر سے بچنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تربیت تعلیمی اصلاحات کا بنیادی ستون ہے اور اے آئی تعلیم کو صرف مخصوص اداروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ایڈٹیک ماہر خبیب ظفر کے مطابق چین نے اے آئی تعلیم کو قومی ضرورت بنا دیا ہے جبکہ پاکستان کو عملی اقدامات اور واضح اہداف پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے تجویز دی کہ ملک میں مرکزی اے آئی لرننگ مراکز، موبائل فرسٹ نصاب اور دور دراز علاقوں کے لیے مفت ڈیجیٹل پلیٹ فارم قائم کیے جائیں۔ اساتذہ کی تربیت کے لیے قومی پیشہ ورانہ تربیتی ادارے کے ساتھ لازمی سرٹیفیکیشن نظام متعارف کرایا جائے اور انٹرن شپ پروگرامز کو آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ طلبہ کو عملی تجربہ حاصل ہو سکے۔ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر چین کا ماڈل براہ راست نقل کرنے کے بجائے پاکستان کے لیے ایک رہنما فریم ورک فراہم کرتا ہے جسے مقامی ضروریات کے مطابق ڈھال کر ہی تعلیمی نظام اور افرادی قوت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک