i آئی این پی ویلتھ پی کے

چین کی 625 ارب ڈالر کی گرین ٹیک ترقی، پاکستان کے صنعتی شعبے کے لیے نئے مواقع،ویلتھ پاکستانBreaking

June 04, 2026

چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی گرین ٹیکنالوجی، جس میں شمسی توانائی، الیکٹرک گاڑیاں، بیٹری اسٹوریج اور ماحول دوست صنعتی پیداوار شامل ہے، پاکستان کے لیے صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے جبکہ پاکستان توانائی کے شعبے میں درآمدی انحصار کم کرنے اور برآمدی بنیاد پر صنعتی ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2024 میں چین کی کلین انرجی سرمایہ کاری 625 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی جو 2015 کے مقابلے میں تقریبا دوگنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین نے 2030 کے لیے مقرر کردہ ہوا اور شمسی توانائی کے اہداف چھ سال پہلے ہی حاصل کر لیے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کے اضافے کا تقریبا 60 فیصد حصہ صرف چین فراہم کرے گا۔چین اس وقت شمسی پینلز، لیتھیم بیٹریوں اور الیکٹرک گاڑیوں میں عالمی مارکیٹ کی قیادت کر رہا ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت ابھرتی ہوئی معیشتوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی چینی شمسی آلات کا بڑا درآمد کنندہ بن چکا ہے اور 2024 میں تقریبا 17 گیگا واٹ شمسی پینلز درآمد کیے گئے جو ملک کی مجموعی بجلی پیداواری صلاحیت کا تقریبا 30 فیصد بنتے ہیں۔ماہرین کے مطابق سستی شمسی ٹیکنالوجی نے پاکستان میں گھریلو اور صنعتی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو تیزی سے فروغ دیا ہے جس سے مہنگی بجلی پر انحصار کم ہو رہا ہے۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی بیٹری اور توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ مستقبل میں شمسی توانائی کے ساتھ اسٹوریج سسٹمز کا استعمال لازمی ہوتا جا رہا ہے۔

اسکائی الیکٹرک کے بزنس ڈویلپمنٹ منیجر وقار احمد کے مطابق پاکستان اب اس مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں صرف شمسی توانائی کافی نہیں بلکہ بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈ سسٹمز بھی ضروری ہیں۔ان کے مطابق چین کی کم قیمت بیٹری ٹیکنالوجی پاکستان میں شمسی توانائی کو مزید معاشی طور پر قابلِ عمل بنا سکتی ہے جو خاص طور پر صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث صنعتی شعبہ پہلے ہی متبادل ذرائع کی طرف جا رہا ہے اور چینی کمپنیاں اب صرف برآمدات تک محدود نہیں بلکہ مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر بھی آمادہ ہیں۔ایک اور ماہر طفیل احمد کے مطابق چین کی بڑے پیمانے پر پیداوار نے شمسی توانائی اور گرین ٹیکنالوجی کی قیمتوں کو نمایاں طور پر کم کیا ہے جس سے پاکستان کے زرعی، ٹیکسٹائل اور چھوٹے کاروباری شعبے مستفید ہو رہے ہیں۔ان کے مطابق پاکستان کے لیے اگلا بڑا موقع الیکٹرک موبیلیٹی اور بیٹری اسٹوریج کے شعبے میں ہے جہاں چین کی عالمی برآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان مستقل صنعتی پالیسی، چارجنگ انفراسٹرکچر اور مقامی اسمبلنگ کی سہولت فراہم کرے تو ملک الیکٹرک گاڑیوں اور بیٹری مصنوعات کا علاقائی مرکز بن سکتا ہے۔مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ چین کی گرین ٹیک قیادت پاکستان کے لیے توانائی کے اخراجات کم کرنے، صنعتی ترقی بڑھانے اور نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے تاہم اس کے لیے مقامی صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک