چین میں تعینات ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ بیجنگ صرف معاشی شراکت دار نہیں بل کہ بیرونی دبا ئوکے مقابلے میں تہران کے سیاسی توازن کا حصہ ہے۔ چین امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ بیان امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کے دوران سامنے آیا ہے۔ ایران کے سفیر نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ چین ایران کے لیے صرف ایک اقتصادی شراکت دار یا توانائی خریدار نہیں بل کہ بیرونی دبا اور خطرات کے مقابلے میں سیاسی توازن کا اہم حصہ ہے۔ ایرانی سفیر نے کہا کہ عراقچی کا حالیہ دورہ چین اس بات کی علامت ہے کہ ایران حالیہ تنازع کے بعد اپنی سفارتی پوزیشن کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے اور صرف فوجی یا وقتی ردعمل پر انحصار نہیں کر رہا۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے بعد کے مرحلے میں اپنی سفارتی حکمت عملی کو مستقل شراکت داریوں کے ذریعے نئی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ چین نے اس بحران کو دبا ئو کے بجائے علاقائی جنگ روکنے اور استحکام برقرار رکھنے کے تناظر میں دیکھا۔ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ اگرچہ چین کو امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم ثالثی کو ایران پر دبا ئوڈالنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے سیکیورٹی اقدامات دفاعی نوعیت کے ہیں اور انہیں تجارتی سرگرمیوں کے خلاف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ جبکہایکس پر اپنی ایک ٹوئیٹ میں بھی انہوں نے لکھا کہ ایران اور چین کے درمیان تعلقات، جو دو ممالک اور دو قدیم تہذیبیں ہیں جن کی گہری ثقافت اور مضبوط روابط ہیں اور جو خطے میں سلامتی، امن اور مشترکہ ترقی کے خواہاں ہیں، امریکا کے دبا ئوکے ذریعے بیجنگ کے تہران کے بارے میں موقف کو تبدیل کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی