سندھ کے مختلف اضلاع میں کراچی سمیت منگل و بدھ کی درمیانی شب آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ۔کئی شہر وں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ درخت گرنے، سولر پلیٹیں اڑنے اور بجلی کی تاریں ٹوٹنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔کراچی کے بھی مختلف علاقے مٹی کے طوفان سے متاثر ہوئے جن میں اسکیم 33 شاد مان ٹان ملیر اورنگی ٹان بلدیہ گلشن معمار گلشن اقبال شاہ فیصل کالونی بحریہ ٹان بفر زون ناظم اباد اور فیڈرل بی ایریا شامل ہیں لیکن طوفان کی شدت میں کمی کی وجہ سے نقصانات نہ ہونے کے برابر تھے۔نوا ب شاہ، شاہ پور چاکر اور گرد و نواح میں تیز ہوائوں کے ساتھ مٹی کا طوفان اور بارش ہوئی جس سے موسم خو شگوار ہوگیا اور کئی روز سے جاری شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔شہریوں نے بارش اور ٹھنڈی ہواں کا خیر مقدم کیا تاہم بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
حیدرآباد اور اس کے اطراف میں بھی تیز ہواں کے ساتھ آندھی نے شہریوں کو خوفزدہ کر دیا۔ آندھی کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش ہوئی تاہم بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔بیشتر علاقوں میں رات 11 بجے سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی جبکہ ہیرآباد میں پونے 9 بجے سے بجلی بند ہونے کے باعث شہری شدید مشکلات سے دو چار رہے۔دادو اور اس کے نواحی علاقوں میں مٹی کے شدید طوفان کے بعد ہلکی بارش ہوئی جس سے موسم خو شگوار ہوگیا اور گرمی کا زور ٹوٹ گیا تاہم تیز ہواں کے باعث بجلی کا نظام متاثر ہوا اور کئی علاقوں میں سپلائی معطل ہوگئی۔ادھر مورو میں طوفانی ہواں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ مختلف مقامات پر گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ ہوا میں اڑ گئے۔متعدد مقامات پر درخت جڑوں سمیت اکھڑ گئے جبکہ بجلی کی تاریں گرنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ مختلف حادثات میں پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی