آئی این پی ویلتھ پی کے

آئی سی ٹی شعبے کی برآمدات میں استحکام، پاکستان کے بیرونی کھاتے کو سہارا حاصل،ویلتھ پاکستان

June 04, 2026

پاکستان کی سروسز برآمدات اپریل 2026 میں مجموعی طور پر مستحکم رہیں جس کی بڑی وجہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر کاروباری خدمات کے شعبوں میں مسلسل بہتری ہے۔ تاہم درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہونے کے باعث ملک کے مجموعی بیرونی مالی توازن پر دبا بڑھ گیا ہے۔اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں مجموعی اشیا اور خدمات کا تجارتی خسارہ 3.39 ارب ڈالر تک پہنچ گیاجو مارچ میں 2.31 ارب ڈالر تھا۔ اس دوران درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ برآمدات کی رفتار نسبتا سست رہی۔کل برآمدات (اشیا اور خدمات) اپریل میں 3.47 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات 6.86 ارب ڈالر تک بڑھ گئیں۔اس کے باوجود خدمات کی برآمدات نے بیرونی شعبے کو سہارا دیا۔ اپریل میں خدمات کی برآمدات 914 ملین ڈالر رہیں جو مارچ میں 911 ملین ڈالر اور فروری میں 800 ملین ڈالر تھیں۔خدمات کے شعبے میں سب سے بڑا حصہ ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کا رہا جو اپریل میں 423 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ پاکستان میں ڈیجیٹل خدمات، فری لانسنگ اور سافٹ ویئر برآمدات کی عالمی مانگ میں تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔دیگر کاروباری خدمات 190 ملین ڈالر رہیں جبکہ سفری خدمات کی برآمدات بڑھ کر 117 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ٹرانسپورٹ خدمات 83 ملین ڈالر اور سرکاری خدمات 66 ملین ڈالر رہیں۔

دوسری جانب خدمات کی درآمدات بھی معمولی اضافے کے ساتھ 890 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جن میں سب سے بڑا حصہ ٹرانسپورٹ خدمات کا رہا جو 377 ملین ڈالر تھا۔ سفری خدمات کی درآمدات 198 ملین ڈالر اور ٹیلی کمیونیکیشن و آئی ٹی خدمات کی درآمدات 68 ملین ڈالر رہیں۔اشیا کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا جو مارچ کے 4.89 ارب ڈالر سے بڑھ کر اپریل میں 5.97 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس کے مقابلے میں اشیا کی برآمدات معمولی اضافے کے ساتھ 2.56 ارب ڈالر رہیں۔ماہرین کے مطابق اگرچہ آئی سی ٹی اور دیگر خدمات پاکستان کے لیے زرمبادلہ کا اہم اور بڑھتا ہوا ذریعہ بن رہی ہیں لیکن مجموعی بیرونی صورتحال اب بھی درآمدی انحصار، توانائی کے اخراجات اور عالمی غیر یقینی حالات کے باعث کمزور ہے۔عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مال برداری کے اخراجات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی پاکستان کے تجارتی توازن کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خدمات خصوصا آئی ٹی برآمدات میں اضافہ معیشت کے ڈھانچے کو بہتر بنا رہا ہے تاہم پائیدار استحکام کے لیے مجموعی برآمدات میں وسعت اور درآمدی دبا میں کمی ناگزیر ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک