پاکستان کی جانب سے چین کی آن شور کیپٹل مارکیٹ میں پہلا پانڈا بانڈ جاری کیا جانا ملک کے بیرونی مالیاتی نظام میں ایک اہم اور تبدیلی لانے والا قدم قرار دیا جا رہا ہیجس سے مالی وسائل کے نئے ذرائع کھولنے، ڈالر پر انحصار کم کرنے اور چین کے بڑے سرمایہ مارکیٹ سے مالی روابط مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔پاکستان نے 1.75 ارب یوآن (تقریبا 25 کروڑ امریکی ڈالر) مالیت کا تین سالہ فکسڈ ریٹ پانڈا بانڈ جاری کیاجس میں سرمایہ کاروں کی جانب سے 8.8 ارب یوآن (تقریبا 1.3 ارب ڈالر) سے زائد کی طلب سامنے آئی، یعنی بانڈ کو پانچ گنا سے زیادہ سبسکرائب کیا گیا۔ اس بانڈ پر منافع کی شرح 2.5 فیصد رہی جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے کم شرحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ شرح پاکستان کے پہلے جاری کردہ ڈالر بانڈز کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے جہاں اوسط منافع کی شرح تقریبا 7.7 فیصد رہی ہے۔اس اجرا کو ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی کریڈٹ گارنٹی حاصل تھی جبکہ اسے چین میں اعلی ترین کریڈٹ ریٹنگ بھی ملی۔حاصل ہونے والی رقم کو پائیدار ترقیاتی منصوبوں جیسے پانی کے وسائل کی بہتری، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ مجموعی پانڈا بانڈ پروگرام کا حجم 1 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔حبیب بینک اے جی زیورخ کراچی کے ماہر ڈاکٹر مرتضین رضا کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے میں اہم تبدیلی کی علامت ہے کیونکہ اس سے ملک کو روایتی ڈالر مارکیٹ کے علاوہ چین کی بڑی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے سرمایہ کاری کے خطرات کم ہوں گے، مالی ذرائع میں تنوع آئے گا اور پاکستان کے ایشیائی مالیاتی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ان کے مطابق سرمایہ کاروں کا مثبت ردعمل اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی معاشی اصلاحات اور مالی استحکام کی کوششوں پر اعتماد بڑھ رہا ہے اور اب سرمایہ کار طویل المدتی نقطہ نظر اختیار کر رہے ہیں۔جے ایس گلوبل کے سربراہ ریسرچ وقاص غنی کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے روایتی ڈالر قرضوں اور ہنگامی مالی امداد پر انحصار میں کمی کی طرف ایک واضح تبدیلی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستان کو بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور چین کے ساتھ اقتصادی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی ہے۔ان کے مطابق مضبوط طلب اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کار پاکستان کی مالی اصلاحات کو وقتی نہیں بلکہ ساختی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس پیش رفت کو تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ چین اور عالمی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی معیشت پر بڑھتے اعتماد کی علامت ہے۔وزیر خزانہ کے مشیر کے مطابق بانڈ کی ابتدائی طلب ہی پروگرام کے مجموعی حجم سے زیادہ تھی جو پاکستان کی بہتر معاشی بنیادوں اور قرض واپسی کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار ہے۔ماہرین کے مطابق اگر اصلاحات کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کے لیے مالیاتی ذرائع میں مزید تنوع اور عالمی سرمایہ مارکیٹوں تک رسائی کے مواقع بڑھ سکتے ہیں جو مستقبل میں پائیدار ترقیاتی مالیات اور علاقائی مالیاتی انضمام کی راہ ہموار کرے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک