پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ 2026 میں یہ مجموعی طور پر مستحکم رہے گی کیونکہ ملکی سرمایہ کاروں کی مضبوط شرکت شیئرز کی قیمتوں کو سہارا دیتی رہے گی۔ اندازہ ہے کہ اگلے سال دسمبر تک بینچ مارک انڈیکس 2 لاکھ 8 ہزار پوائنٹس تک پہنچ سکتا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی منافع دینے کے بعد اب مارکیٹ نسبتا متوازن اور محتاط ترقی کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ کیلنڈر سال 2024 میں بینچ مارک انڈیکس میں 84 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 2025 میں اب تک اس میں مزید 49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 23 دسمبر 2025 تک انڈیکس 171,074 پوائنٹس پر موجود تھا۔عارف حبیب لمیٹڈ کی جانب سے تیار کردہ پاکستان انویسٹمنٹ اسٹریٹیجی 2026 کے مطابق، اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی میں اب مقامی سرمایہ کاروں کی لیکویڈیٹی بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملکی سرمایہ کاری میں تسلسل کے باعث غیر ملکی سرمایہ کے انحصار میں کمی آئی ہے اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران مارکیٹ کو استحکام ملا ہے۔مارکیٹ کی ویلیوایشن بھی حوصلہ افزا ہے۔
اس وقت مارکیٹ کیلنڈر سال 2026 کے لیے 8 گنا فارورڈ پرائس ٹو ارننگ ریشو پر ٹریڈ کر رہی ہے جو اس کی طویل مدتی اوسط کے مطابق ہے۔ حالیہ برسوں میں نمایاں اضافے کے باوجود، پاکستانی مارکیٹ اب بھی خطے کی دیگر اسٹاک مارکیٹس کے مقابلے میں 52 فیصد کم قیمت پر موجود ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز کے مطابق موجودہ ویلیوایشن 2010 کے مقابلے میں بھی تقریبا 22 فیصد کم ہیحالانکہ اس وقت معاشی حالات نسبتا بہتر تھے اور مارکیٹ زیادہ ملٹی پل پر ٹریڈ کر رہی تھی۔اس وقت لسٹڈ کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریبا 16 فیصد کے برابر ہے جو 20 سالہ اوسط 18.8 فیصد سے کم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ نے ابھی تک ملکی معیشت کے اصل حجم کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا۔کارپوریٹ آمدن میں 2026 کے دوران درمیانی رفتار سے اضافے کی توقع ہے۔ اندازہ ہے کہ اس سال آمدن میں 5.9 فیصد اضافہ ہوگا، جو 2027 میں بڑھ کر 11.4 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
اگرچہ آمدن میں اضافہ محدود رہے گا، اس کے باوجود شیئرز دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع کے مقابلے میں بہتر منافع فراہم کرتے رہیں گے۔ڈیویڈنڈ ییلڈ بدستور سرمایہ کاروں کے لیے بڑی کشش بنی ہوئی ہے۔ مجموعی مارکیٹ کی ڈیویڈنڈ ییلڈ تقریبا 7.2 فیصد جبکہ بینچ مارک انڈیکس کی ڈیویڈنڈ ییلڈ 5.9 فیصد بتائی گئی ہیجو سرمایہ کاروں کو مستقل آمدن فراہم کرتی ہے۔معاشی حالات بھی اسٹاک مارکیٹ کے لیے معاون ثابت ہونے کی توقع ہے۔ مالی سال 2026 میں مہنگائی کی اوسط شرح 6.9 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ پالیسی ریٹ مجموعی طور پر مستحکم رہنے کی توقع ہے جو مالی سال 2026 میں اوسطا 10.5 فیصد اور مالی سال 2027 میں معمولی کمی کے بعد 10.0 فیصد تک آ سکتا ہے۔عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق، 2026 میں نئی سرمایہ کاری (کیپیٹل فارمیشن) بھی مارکیٹ کو سہارا دے گی کیونکہ مختلف شعبوں میں 10 سے 12 ابتدائی عوامی پیشکشیں متوقع ہیں جن میں توانائی، انشورنس، رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے شعبے شامل ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک