آئی این پی ویلتھ پی کے

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے نومبر میں ملک کی برآمدات میں کمی کے بعد برآمد کنندگان اور تجارتی حلقوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا،ویلتھ پاکستان

January 07, 2026

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے نومبر میں ملک کی برآمدات میں کمی کے بعد برآمد کنندگان اور تجارتی حلقوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔عارضی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، نومبر میں برآمدات میں ماہ بہ ماہ کمی دیکھی گئی جس کی وجہ عالمی طلب میں سست روی، پیداواری لاگت میں اضافہ اور برآمدی صنعتوں کو درپیش ساختی مسائل بتائے جا رہے ہیں۔اس صورتحال کے پیش نظر ٹی ڈی اے پی نے برآمد کنندگان، تجارتی تنظیموں اور چیمبرز آف کامرس سے رابطہ کیا ہے تاکہ برآمدات میں رکاوٹ بننے والے اہم مسائل کی نشاندہی کی جا سکے اور مندی کا رجحان ختم کرنے کے لیے پالیسی تجاویز تیار کی جا سکیں۔ٹی ڈی اے پی کے حکام کے مطابق متعلقہ فریقوں کی آرا مستقبل کی تجارتی حکمتِ عملی بنانے اور عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقت بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ٹی ڈی اے پی کے ڈائریکٹر ذوالفقار علی نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم مختلف شعبوں کے برآمد کنندگان سے فعال طور پر رائے لے رہے ہیں تاکہ انہیں درپیش مشکلات کو سمجھا جا سکے اور ایسے عملی حل نکالے جا سکیں جو آنے والے مہینوں میں برآمدات بڑھانے میں مدد دیں۔ذوالفقار علی نے کہا کہ پاکستان کے پاس برآمدات بڑھانے کے لیے تنوع اور ویلیو ایڈیشن کے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ روایتی منڈیوں اور مصنوعات سے آگے بڑھ کر غیر روایتی برآمدات جیسے آئی ٹی خدمات، انجینئرنگ مصنوعات اور تیار شدہ غذائی اشیا کو فروغ دیا جائے۔

ٹی ڈی اے پی اپنے رابطہ پروگرام کے تحت مختلف شعبوں کے لیے خصوصی اجلاس منعقد کرنے اور متعلقہ فریقوں سے تحریری تجاویز حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اتھارٹی موجودہ تجارتی پالیسیوں کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ ان کی افادیت جانچی جا سکے اور اصلاح کے لیے شعبوں کی نشاندہی ہو سکے۔مجوزہ اقدامات میں تجارتی سہولیات میں بہتری، برآمدی طریقہ کار کو آسان بنانااور بین الاقوامی تجارتی میلوں اور نمائشوں میں زیادہ شرکت شامل ہے۔انہوں نے پیداوار میں بہتری اور لاگت کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی، مہارتوں کی تربیت اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔ ان کے مطابق مضبوط سپلائی چین اور پالیسیوں میں تسلسل پائیدار برآمدی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔حکومت نے بھی برآمد کنندگان کی معاونت اور مجموعی تجارتی ماحول بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ذوالفقار علی کے مطابق معیشت کو مستحکم کرنے، مہنگائی پر قابو پانے اور صنعتی یونٹس کو مناسب توانائی کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں جو برآمدات کی بحالی کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے نتیجے میں ایک مثر اور بروقت برآمدی حکمتِ عملی تشکیل دی جا سکے گی جس کا مقصد صرف حالیہ کمی کا ازالہ نہیں بلکہ برآمدی شعبے کو مضبوط اور پائیدار بنانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے ہی برآمدات کی رفتار دوبارہ بحال کی جا سکتی ہے۔ان مشاورتوں کے نتائج سے ایسی پالیسیوں کی تشکیل متوقع ہے جو پاکستان کے برآمدی شعبے کو مضبوط بنانے اور عالمی منڈی میں اس کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیں گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک