آئی این پی ویلتھ پی کے

سندھ حکومت کا صنعتی شعبے کی ترقی کیلئے مربوط نظام قائم کرنے کا فیصلہ: ویلتھ پاکستان

January 07, 2026

سندھ حکومت نے صوبے بھر میں صنعتی شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کی مثر منصوبہ بندی، بروقت تکمیل اور کڑی نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع رابطہ نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس اقدام کا مقصد ادارہ جاتی رکاوٹوں کو دور کرنا، مختلف محکموں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانا اور صنعتی ترقی کی رفتار تیز کر کے روزگار اور مجموعی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔حکام کے مطابق، اس مجوزہ نظام کے تحت اہم صوبائی محکموں، ریگولیٹری اداروں اور صنعتی شعبے سے وابستہ افراد کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لایا جائے گا تاکہ فیصلوں میں آسانی ہو اور سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو درپیش دیرینہ مسائل حل کیے جا سکیں۔ یہ فیصلہ منظوریوں میں تاخیر، محکموں کے درمیان کمزور رابطے اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل کے پیش نظر کیا گیا ہے جن کی وجہ سے سندھ کا صنعتی شعبہ اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکا۔اس رابطہ نظام میں محکمہ صنعت و تجارت، محکمہ توانائی، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی، محکمہ ماحولیات، محکمہ محنت اور متعلقہ بلدیاتی ادارے شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ صنعتی اسٹیٹس، چیمبرز آف کامرس اور نجی شعبے کے نمائندے بھی اس کا حصہ ہوں گے تاکہ زمینی حقائق اور صنعت کے مسائل براہِ راست پالیسی سازوں تک پہنچ سکیں۔محکمہ صنعت کے ڈپٹی سیکریٹری یونس دہری نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام ایک مرکزی فورم کے طور پر کام کرے گا جہاں جاری صنعتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، رکاوٹوں کی نشاندہی کی جائے گی اور عملی و مقررہ مدت میں قابلِ عمل حل تجویز کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ باقاعدہ اجلاسوں میں منصوبوں کے اہداف، بجلی، گیس اور پانی کی دستیابی، زمین سے متعلق مسائل، ماحولیاتی اجازت نامے اور محنت سے متعلق امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا ایک اہم مقصد سندھ میں کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہیتاکہ طریقہ کار کی تاخیر اور محکموں کے اختیارات کے ٹکرا کو کم کیا جا سکے۔صنعتی ترقی کے لیے مختلف محکموں کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ یہ نظام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ منصوبے غیر ضروری انتظامی مسائل کی وجہ سے نہ رکیں،حکومت اس نظام کے تحت صنعتی زونز اور خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی اور بحالی پر بھی توجہ دے رہی ہے۔

صنعتی علاقوں میں بجلی، گیس اور پانی کی بلا تعطل فراہمی، بہتر سڑکوں کا نظام اور مثر ویسٹ مینجمنٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو صنعتی ضروریات کے مطابق بنایا جائے گا تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کیا جا سکے۔حکام کے مطابق، ماحولیاتی قوانین کی پابندی اور پائیدار صنعتی طریقوں کو بھی اس نئے نظام کا اہم حصہ بنایا جائے گا۔ سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی صنعتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ منصوبے ماحولیاتی معیار پر پورا اتریں اور غیر ضروری تاخیر بھی نہ ہو۔ اسی طرح محکمہ محنت افرادی قوت کی دستیابی، مہارتوں کی تربیت اور لیبر قوانین پر عملدرآمد کے لیے تعاون کرے گا۔صنعتکاروں نے حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ کاروباری تنظیموں کے رہنماں کا کہنا ہے کہ محکموں کے درمیان ناقص رابطے کی وجہ سے اکثر منصوبوں کی لاگت بڑھ جاتی تھی اور سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے تھے۔ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین شیخ تحسین نے امید ظاہر کی کہ یہ مشترکہ نظام شفافیت کو فروغ دے گا، پالیسیوں پر بہتر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا اور سندھ میں سرمایہ کاری کے لیے ایک مستحکم اور دوستانہ کاروباری ماحول پیدا کرے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک