آئی این پی ویلتھ پی کے

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ملا جلا ہفتہ، آخری لمحات میں فروخت سے منافع ختم، کے ایس ای 100 میں 0.02 فیصد کمی: ویلتھ پاکستان

February 10, 2026

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتہ ملا جلا رہا۔ ہفتے کے آغاز میں حاصل ہونے والا منافع آخری لمحات میں شدید فروخت کے دبا وکی وجہ سے ختم ہوگیا۔ یہ صورتحال سکیورٹی خدشات اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس معمولی کمی کے ساتھ بند ہوا۔کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتے کے بیشتر حصے میں مثبت رہا، تاہم آخری سیشنز میں منافع برقرار نہ رکھ سکا اور 45 پوائنٹس یا 0.02 فیصد کمی کے ساتھ 184,130 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کمزور سکیورٹی صورتحال اور منافع لینے کے باعث مارکیٹ میں تیزی برقرار نہ رہ سکی۔مارکیٹ کا آغاز 184,442 پوائنٹس سے ہوا، ہفتے کے دوران 188,312 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھوا اور 182,792 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک آئی جبکہ اختتام تقریبا برابر سطح پر ہوا۔ اندرونی سکیورٹی خدشات اور قریبی مدت کی غیر یقینی صورتحال کے باعث ہفتے کے آخر میں سرمایہ کار محتاط رہے۔عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق شعبہ جاتی بنیاد پر بینکوں نے 581 پوائنٹس کے ساتھ سب سے زیادہ مثبت کردار ادا کیا، اس کے بعد انویسٹمنٹ بینکس 316 پوائنٹس، آٹو اسمبلرز 222 پوائنٹس، ٹیکنالوجی 136 پوائنٹس اور پاور سیکٹر 111 پوائنٹس کے ساتھ شامل رہے۔

دوسری جانب آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں نے انڈیکس کو 483 پوائنٹس نیچے کھینچا جبکہ فرٹیلائزر 439 پوائنٹس، سیمنٹ 286 پوائنٹس، ایف ایم سی جی 56 پوائنٹس اور دیگر شعبے 39 پوائنٹس منفی رہے۔کمپنیوں کی بنیاد پر اینگرو ہولڈنگز لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، میزان بینک لمیٹڈ، کے الیکٹرک لمیٹڈ اور سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ مثبت کردار ادا کرنے والی نمایاں کمپنیوں میں شامل رہیں۔ اس کے برعکس پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، لکی سیمنٹ لمیٹڈ، اینگرو فرٹیلائزرز لمیٹڈ اور نیشنل بینک آف پاکستان نے انڈیکس پر دباو ڈالا۔ہفتے کے دوران مارکیٹ سرگرمی میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ اوسط یومیہ حصص کی تعداد میں 17.6 فیصد اضافہ ہو کر 1,014 ملین حصص رہی جبکہ اوسط تجارتی مالیت 11 فیصد کم ہو کر 175.8 ملین ڈالر رہی جو محتاط سرمایہ کاری کی عکاسی کرتی ہے۔عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے کہا کہ جمعے کے روز مارکیٹ پر شدید فروخت کا دبا ورہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 3,703 پوائنٹس یا 1.97 فیصد گر گیا۔ ان کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کے باعث یہ فروخت ہوئی جہاں بیرک مائننگ نے ریکوڈک منصوبے کے لیے سرمایہ کاری اور سکیورٹی انتظامات کا جامع جائزہ لینے کا اعلان کیا۔

اسی دن اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے دھماکے نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔ کمی کے باوجود کاروباری حجم مضبوط رہا اور 1,266.2 ملین حصص کی ٹریڈنگ ہوئی جبکہ 60.2 ارب روپے کا کاروبار ہوا۔ اس میں کے الیکٹرک لمیٹڈ نمایاں رہاجو ریٹیل سرمایہ کاروں کی مسلسل شرکت کو ظاہر کرتا ہے۔آئندہ کے حوالے سے عارف حبیب لمیٹڈ کا کہنا ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس پر ایم ایس سی آئی کے آنے والے جائزے اور کارپوریٹ نتائج کے سیزن کا اثر رہے گا۔ بروکریج کے مطابق انڈیکس اس وقت 9.3 گنا پرائس ٹو ارننگ ریشو پر ٹریڈ ہو رہا ہے اور تقریبا 5.3 فیصد ڈیویڈنڈ ییلڈ فراہم کر رہا ہے۔دوسری جانب اے کے ڈی سیکیورٹیز کا خیال ہے کہ مثبت رجحان جاری رہ سکتا ہے۔ اس کی وجہ بہتر ہوتی معاشی صورتحال، جاری اصلاحات اور سیاسی استحکام کو قرار دیا گیا ہے۔ بروکریج کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں مارکیٹ مجموعی طور پر استحکام کے مرحلے میں رہ سکتی ہے اور کے ایس ای 100 کے 180,000 سے 190,000 پوائنٹس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ 180,000 پوائنٹس کی سطح کو مضبوط سپورٹ سمجھا جا رہا ہے تاہم سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی خدشات مارکیٹ کے لیے اہم خطرات بنے رہیں گے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک