آئی این پی ویلتھ پی کے

روری کے پہلے ہفتے میں پاکستانی روپیہ مستحکم رہا، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہونے سے اعتماد بڑھا: ویلتھ پاکستان

February 10, 2026

فروری کے پہلے ہفتے کے دوران پاکستانی روپیہ مجموعی طور پر مستحکم رہا۔ عالمی بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں اس کی قدر ایک محدود دائرے میں رہی کیونکہ دبا ومیں کمی، زرمبادلہ کے مضبوط ذخائر اور ڈالر کی طلب پر کنٹرول کے باعث فارن ایکسچینج مارکیٹ پرسکون رہی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے میں معمولی اتار چڑھاو دیکھا گیا۔ 2 فروری کو ڈالر 279.47 روپے خرید اور 279.89 روپے فروخت پر رہا۔ 3 فروری کو یہ تقریبا اسی سطح پر 279.46 اور 279.89 پر برقرار رہاجبکہ 4 فروری کو معمولی کمی کے ساتھ 279.42 اور 279.84 پر آ گیا۔ 6 فروری تک ڈالر 279.41 روپے خرید اور 279.83 روپے فروخت پر رہاجو روپے کے استحکام کو ظاہر کرتا ہے۔یورو کے مقابلے میں بھی روپیہ محدود حد میں ٹریڈ کرتا رہا۔ 2 فروری کو یورو 331.36 روپے خرید اور 331.86 روپے فروخت پر رہا۔ 3 فروری کو یہ کم ہو کر 330.12 اور 330.61 پر آ گیا، 4 فروری کو معمولی بہتری کے ساتھ 330.61 اور 331.10 ہواجبکہ 6 فروری کو 329.57 اور 330.06 پر بند ہوا۔

برطانوی پاونڈ ہفتے کے دوران نسبتا مضبوط رہا۔ 2 فروری کو یہ 382.21 روپے خرید اور 382.79 روپے فروخت پر کھلا، 3 فروری کو بڑھ کر 382.66 اور 383.26 ہو گیا، 4 فروری کو مزید مضبوط ہو کر 383.18 اور 383.78 پر پہنچا جبکہ 6 فروری کو 379.02 اور 379.60 پر بند ہوا۔چینی یوان بھی محدود حد میں رہا۔ 2 فروری کو یہ 40.23 روپے خرید اور 40.28 روپے فروخت پر تھا، 3 فروری کو 40.30 اور 40.36، 4 فروری کو 40.31 اور 40.36 ہوا، جبکہ 6 فروری کو 40.27 اور 40.33 پر رہا، جو کم اتار چڑھاو کو ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح سعودی ریال بھی مستحکم رہا۔ 2 فروری کو یہ 74.51 روپے خرید اور 74.61 روپے فروخت پر تھا اور 6 فروری کو 74.50 اور 74.61 پر بند ہوا۔ جاپانی ین میں بھی معمولی تبدیلی دیکھی گئی، جو ہفتے کے آغاز میں 1.80 روپے خرید اور 1.80 روپے فروخت پر تھا اور اختتام پر 1.78 اور 1.78 پر آ گیا۔بروکریج اداروں کے مطابق روپے کی مستحکم کارکردگی کی وجہ لیکویڈیٹی کی بہتر صورتحال اور بیرونی ذخائر کا مضبوط ہونا ہے۔ عارف حبیب لمیٹڈ نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں ہفتہ وار بنیاد پر 56.1 ملین ڈالر اضافہ ہوا اور یہ 15.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ بروکریج کے مطابق روپیہ ہفتہ وار بنیاد پر 0.02 فیصد مضبوط ہو کر 279.71 روپے فی ڈالر پر بند ہوا۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق جنوری 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 2.7 ارب ڈالر رہا۔ برآمدات بڑھ کر 3.1 ارب ڈالر ہو گئیںجو سالانہ بنیاد پر 3.7 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 35 فیصد اضافہ ہے اور یہ اب تک کی سب سے زیادہ ماہانہ برآمدات ہیں۔ درآمدات 5.8 ارب ڈالر رہیںجو سالانہ بنیاد پر 1.4 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 4.9 فیصد کم ہیں۔ مجموعی طور پر مالی سال 2026 کے پہلے سات ماہ میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 22.0 ارب ڈالر ہو گیا جو 28.2 فیصد سالانہ اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔دوسری جانب اے کے ڈی سیکیورٹیز کے مطابق اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد پہلی نیلامی میں ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی ییلڈز میں 15 سے 40 بیسس پوائنٹس اضافہ ہوا۔ بہتر معاشی اشاروں کے باوجود مارکیٹ میں سرگرمی کمزور رہی اور اوسط یومیہ کاروبار 12 فیصد کم ہو کر 1.2 ارب حصص رہ گیا جو گزشتہ ہفتے 1.4 ارب حصص تھا۔اے کے ڈی سیکیورٹیز نے یہ بھی بتایا کہ روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں ہفتہ وار بنیاد پر 0.02 فیصد مضبوط ہوا اور 279.71 روپے فی ڈالر پر بند ہوا۔تجزیہ کاروں کے مطابق روپے کی پرسکون کارکردگی مضبوط زرمبادلہ ذخائر، فارن ایکسچینج کی طلب پر کنٹرول اور مالی حالات میں بہتری کی عکاس ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کسی بڑے بیرونی دباو یا عالمی مالیاتی منڈیوں میں اچانک تبدیلی کے بغیر آئندہ مدت میں روپیہ مجموعی طور پر مستحکم رہے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک