افغانستان میں طالبان حکومت نے ایک نیا فوجداری ضابطہ متعارف کرا دیا جس پر عالمی ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔بین الاقوامی جریدے یوریشیا کے مطابق یہ ضابطہ قانون کے نام پر نظریاتی اطاعت اور جبر پر مبنی ریاستی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔رپورٹ کے مطابق نئے فوجداری ضابطے کے تحت طبقاتی انصاف کو قانونی حیثیت دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مساوی قانونی حقوق کا تصور مزید کمزور ہو گیا ہے۔ ضابطے میں مذہبی اور سیاسی تنوع کو جرم قرار دینے کی شقیں شامل کی گئی ہیں، جس سے اختلافِ رائے اور آزاد سوچ کے لیے گنجائش محدود ہو گئی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی