مشرق وسطی انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو الیکس وٹانکا نے کہا ہے کہ ایرانی عوام میں تشویش بڑھ رہی ہے کہ معیشت شدید زوال کا شکار ہے اور قیادت کے پاس بحران کا کوئی واضح حل موجود نہیں۔الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے الیکس وٹانکا نے کہا ایران کے اندر حکومت کے حامیوں کے سوا کسی بڑے پیمانے پر حقیقی قومی یکجہتی کے شواہد نظر نہیں آتے، ایران میں باقاعدہ عوامی سروے کی اجازت نہیں اس لیے کسی بھی اعداد و شمار کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت جس دبا کا سامنا کر رہا ہے وہ محض معاشی پابندیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک جسمانی ناکہ بندی جیسا اثر رکھتا ہے
جو معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے، پابندیوں سے ایران نے نمٹنے اور انہیں غیر مثر بنانے کا طریقہ سیکھ لیا تھا لیکن جسمانی ناکہ بندی مختلف صورتحال ہے۔وٹانکا نے کہا کہ ایران میں معاشی حالات خراب ہوتے ہیں اور لوگ سڑکوں پر آنا شروع ہو جاتے ہیں تو حکومت کے پاس کوئی مثر جواب نہیں ہوگا، ایران میں بظاہر اقتدار نئے سپریم لیڈر کے پاس ہے تاہم وہ اپنے والد کی طرح مضبوط سیاسی حیثیت نہیں رکھتے اور اس وقت زیادہ تر ایک علامتی کردار ادا کر رہے ہیں۔الیکس وٹانکا کا مزید کہنا تھا کہ اصل طاقت پاسداران انقلاب اور انٹیلی جنس اداروں کے قریبی حلقوں کے ہاتھ میں ہے جو ریاستی فیصلوں پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی