امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہیکہ ایرانی حکومت ممکنہ طور پر پہلے سے زیادہ کمزور ہوگئی ہے جبکہ ایران نے صدر ٹرمپ کے الفاظ کو اقوام متحدہ چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی سختی سے تردید اور مذمت کی جائے اور سلامتی کونسل اس معاملے پر فیصلہ کن ردعمل دے۔غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کی معیشت زوال کا شکار ہے، ایرانی حکومت ممکنہ طور پر پہلے سے زیادہ کمزور ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایران میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے شروع ہوں گے، ایران کے حالیہ مظاہروں میں یقینی طور پر ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔واضح رہے کہ حال ہی میں ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج ہوا تھا جس میں کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے جب کہ ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کا بھی سامنا رہا۔دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بار پھر امریکا اور اسرائیل کو وارننگ دیدی۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ دشمن کے رویئے اور نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، دشمن کے ہر ممکنہ اقدام کے لئے منصوبہ موجود ہے، 12 روزہ جنگ سے ثابت ہو چکا ایران کے خلاف فوجی آپریشن ناکام ہے۔
آئی آر جی سی کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کا ماحول بنا کر خوف پھیلانا اور بحری جہاز تعینات کرنا امریکا کا پرانا حربہ ہے۔ دریںاثنا اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الفاظ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انھیں اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی سختی سے تردید اور مذمت کی جائے اور سلامتی کونسل اس معاملے پر فیصلہ کن ردعمل دے۔اپنے خط میں، امیر سعید نے مسٹر ٹرمپ کے حالیہ ریمارکس کو غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز، اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کے واضح طور پر منافی قرار دیا۔ایران نے اپنے خط میں کہا ہے کہ اس طرح کے رویے سے علاقائی کشیدگی بڑھے گی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہو گا۔
انھوں نے لکھا کہ کسی بھی مسلح حملے یا جارحیت کی صورت میں، ایران اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور لوگوں کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا اپنا حق استعمال کرے گا۔ئیمزید یہ کہ امریکہ اپنے کنٹرول سے باہر کسی بھی غیر متوقع نتائج کی مکمل اور براہ راست ذمہ داری قبول کرے گا۔گذشتہ روز انھوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک پوسٹ میں، امریکی صدر نے طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی ایران روانگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاز اور اس کے ساتھ موجود ٹاسک فورس ضرورت پڑنے پر تیز رفتاری اور شدت کے ساتھ اپنا مشن انجام دینے کے لیے تیار اور قابل ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی