ایران نے امریکا کی جانب سے ایرانی جہازوں کو قبضے میں لینے پر اقوامِ متحدہ سے احتجاج کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیکریٹری جنرل یو این اور صدر سلامتی کونسل کو خط میں ایران نے ناکہ بندی کو بحری قزاقی قرار دیا ہے۔ ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا کہ ایسا رویہ غیر قانونی جبر، بین الاقوامی تجارت میں مداخلت اور املاک کے غیر قانونی قبضے کے مترادف ہے۔ایرانی مندوب نے یواین سیکرٹری جنرل کو خط میں امریکی ناکہ بندی کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی جہازوں کو روکنا اور اثاثے ضبط کرناسمندری قزاقی قرار دے دیا۔ ایرانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ امریکا تحویل میں لئے گیے جہاز چھوڑنے کا حکم دے، امریکی اقدام کی علاقائی اور عالمی سکیورٹی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، واشنگٹن کو ان اقدامات کے نتائج کی مکمل ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح اواج طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور دشمن کو جنگ شروع کرنے پر پچھتانا پڑے گا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق ترجمان ایرانی فوج بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہم نے جنگ کو ختم نہیں سمجھا، جس دن جنگ رکی اور میدان میں ایک طرح کی جنگ بندی یا خاموشی قائم ہوئی، اسی دن سے ہم نے امریکا اور دشمنوں پر عدم اعتماد کے باعث جنگی سطح کی تیاری کو جاری رکھا اور نئے اہداف کا تعین کرلیا گیا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ جنگ سے پہلے انٹیلیجنس جائزوں کی بنیاد پر تمام یونٹس مکمل تیاری میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اصفہان میں دشمن کی دراندازی کے دوران زمینی افواج نے فوری کارروائی کی، امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا اور اس تیز ردعمل کے باعث دشمن کی کارروائی ناکامی سے دوچار ہوئی۔جنرل اکرمینیا کے مطابق جنگ کے دوران قومی فضائی دفاعی مرکز کے تحت فوج کے فضائی دفاع اور پاسدارانِ انقلاب کے ایرو اسپیس دفاعی یونٹ نے 170 سے زائد دشمن طیاروں اور 16 لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنا کر مار گرایا، جن جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں سے کئی جدید ڈرونز تھے۔ترجمان کے مطابق جنگ کے آغاز میں ایرانی فضائیہ نے عراق، کویت اور قطر میں دشمن کے اڈوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایک امریکی میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی فضائیہ کے ایک ایف-5 طیارے نے مختلف دفاعی تہوں کو عبور کرتے ہوئے ایک امریکی اڈے کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ ایرانی بحریہ نے خطے اور اسرائیل میں اہداف پر نیول کروز میزائل اور ڈرون داغے اور بحریہ نے امریکی جنگی جہازوں، بشمول طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو ایرانی ساحل کے قریب آنے کی اجازت نہیں دی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی