امریکا نے یو ایس ایس ابراہیم لنکن کے بعد ایک اور بحری بیڑہ جارج واشنگٹن ایران کی طرف روانہ کردیا ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقی وسطی میں امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کے بعد ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔صدر ٹرمپ نے امریکی ویب سائٹ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ صورتحال اس وقت غیر یقینی ہے کیونکہ انہوں نے مشرقِ وسطی میں بڑی فورس تعینات کر دی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ان کا بحری بیڑہ ایران کے قریب موجود ہے جو وینزویلا میں استعمال ہونے والی فوجی قوت سے بھی بڑا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی ٹیم کی جانب سے پیش کیے گئے ممکنہ آپشنز پر بات کرنے سے گریز کیا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ سفارتکاری اب بھی ایک آپشن ہے۔ ایران کئی بار رابطہ کر چکا ہے اور مشرقی وسطی میں فوجی تعیناتی کے بعد ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر نے آئیوا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کیا، ایران میں فوجی کارروائی میں کوئی بھی شہری نہیں ماراگیا،امید ہے ایران ہم سے ڈیل کرلے گا۔
امریکی صدر نے تقریب سے خطاب کے دوران وسط مدتی انتخابات کیلئے مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کردیا۔ٹرمپ نے کہا کہ آج سے وسط مدتی انتخاب کی مہم شروع کررہے ہیں، انہوں نے دعوی کیاکہ وہ وسط مدتی انتخابات با آسانی جیت جائیں گے، ساتھ یہ بھی کہاکہ انتخابات ہارنے کی صورت میں امریکا بہت کچھ کھودے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ ایک سال پہلے امریکا میں تاریخی مہنگائی تھی، آج امریکی معیشت مستحکم ہورہی ہے، مہنگائی کم ہے، امریکا آج سرمایہ کاروں کیلئے محفوظ ملک ہے، ایک سال کے دوران سرمایہ کاری کا حجم 18 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ٹرمپ نے کہا کہ سرحدوں کوغیرقانونی تارکین وطن کیلئے مکمل بندکردیا ہے، امریکاکی جتنی عزت اب دنیا میں ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ نوری المالکی دوبارہ عراق کے وزیر اعظم بنے تو امریکا عراق کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عراق اگر نوری المالکی کو دوبارہ وزیراعظم بناتا ہے تو یہ بہت غلط فیصلہ ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ نوری المالکی وزیراعظم منتخب ہوئے تو امریکا عراق کی کوئی مدد نہیں کرے گا، المالکی کے دور میں عراق غربت اور بیامنی میں ڈوب گیا تھا، امریکی مدد کے بغیر عراق کی کامیابی، خوشحالی اور آزادی کا صفر امکان ہے۔ علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست منی سوٹا میں امیگریشن انفورسمنٹ اہلکاروں کے ہاتھوں قتل شہری کو ہی اپنی موت کا ذمہ دار ٹھہرادیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن اینڈ کسٹمز اہلکاروں کیخلاف مظاہرے میں شامل آئی سی یو نرس الیکس پریٹی پر ہی تنقید کی اور لائسنس والی پستول رکھنے والے کو ہی قصور وار ٹھہرا دیا۔امریکی صدر نے واقعے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکس پریٹی کو اسلحہ نہیں رکھنا چاہیے تھا، کشیدگی میں کچھ کمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ادھر ایک سینئر امریکی عہدیدار نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے وائٹ ہائوس اب بھی تیار ہے۔ عہدیدار کے مطابق اگر ایران رابطہ کرتا ہے اور طے شدہ شرائط کو تسلیم کرتا ہے تو امریکا بات چیت کے لیے تیار ہوگا۔امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران امریکا اپنی شرائط کئی بار ایران کو پہنچا چکا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی