امریکی کانگریس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات کم کرنے کی قرار داد پھر مسترد ہوگئی۔امریکی میڈیا کے مطابق ایک ماہ کے دوران یہ قرار داد تیسری بار مسترد ہوئی ہے، قرار داد کے حق میں 47 اور مخالفت میں 53 ووٹ پڑے۔قرارداد کا مقصد صدر کی ایران کے خلاف فضائی کارروائی روکنا اور یہ شرط لگانا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جنگی کارروائی کی منظوری کانگریس سے لی جائے۔قرارداد کے حامی ارکان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق جنگ کی منظوری دینا کانگریس کی ذمہ داری ہے اور اس اقدام کا مقصد وہ اختیار دوبارہ حاصل کرنا تھا۔ارکان کا مزید کہنا تھا کہ صدر کو کانگریس کے سامنے آ کر یہ بتانا چاہیے کہ امریکہ ایران کے خلاف کیوں لڑ رہا ہے اور یہ جنگ کیسے ختم ہوگی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی